تازہ ترین
مسجد نبوی، مسجد الحرام  میں نمازعیدالاضحٰی  کی ادائیگی

مسجد نبوی، مسجد الحرام میں نمازعیدالاضحٰی کی ادائیگی

مکہ ،مدینہ (21اگست، 2018)کم سے کم 20لاکھ مسلمانوں نے آج منگل کی صبح مسجد نبوی ﷺاور مسجد الحرام میں  نماز عیدالاضحی اداکی ۔

گذشتہ روز امام شیخ حسن بن عبدالعزیز نے وقوف عرفات کے موقع پر  مسجد نمرہ میں خطبہ حج میں کہاتھا کہ اللہ تقوٰی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالی کا حکم ہے کہ تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ،جبکہ  تمام انبیاؑ نے اللہ کی وحدانیت کی تعلیم دی۔

امام صاحب نے اپنی تقریر میں کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے نماز قائم کرو بے شک نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے اے ایمان والوں تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جیسے تم سے پہلے امتوں پر کیے گئے تھے۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں:

مسلمان قربانی کیوں کرتے ہیں؟

قربانی انبیائے کرام کی سنت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی امت میں بھی اسی طرح جاری و ساری رکھا ہے۔ آپ کا معمول تھاکہ آپ ہر عید الاضحیٰ پر قربانی کرتے۔

قربانی کو ایک دینی عمل کے طور پر جاری کیا گیا ہے اور یہ سنت بغیر کسی انقطاع کے آج کے دن تک قائم ہے۔ قربانی کا عمل سنت سے منتقل ہونے والے اسی عملی دین کا ایک حصہ ہے۔

ویڈیودیکھنے کےلیے پلے کابٹن دبائیں:

قربانی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک عظیم عبادت ہے۔ یہ بندے کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے ضرورت پڑ نے پر جان تک دے سکتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایمان کا اعلیٰ ترین سطح پر علامتی اظہار ہے۔ قربانی کا یہ عمل اپنے رب سے محبت، اس کی چاہت اور شکرگزاری کا ایک ایسا اعلیٰ طریقہ ہے ، جس کا بدل کسی طر ح ممکن نہیں۔ جو بندہ اس جذبے سے قربانی کرے گا یہ ممکن نہیں کہ وہ صاحب حیثیت ہو اور کوئی ضرورت مند اس کے پاس سے خالی لوٹ جائے۔ اس لیے کہ دین کا مطالبہ صرف قربانی نہیں ، بلکہ فرد و اجتماع کے حوالے سے اور بھی بہت سے حقوق بندۂ مومن پر عائد ہوتے ہیں ۔جس قوم میں قربانی کی صحیح اسپرٹ پیدا ہوگئی اس میں نہ کوئی بھوکا سوسکتا ہے اور نہ اسے دوسروں کی امداد کی ضرورت رہ سکتی ہے۔

Posted by Abbtakk on Monday, August 20, 2018

خطبہ حج

امام شیخ حسین بن عبدالعزیز نے کہا اسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق اور بہترین سلوک و برتاؤ پر مشتمل ہے، کوئی بھی امت دلوں میں اخلاق کا بیج بوئے بغیر صالح شہری پیدا نہیں کرسکتی۔

ان کاکہناتھا کہ دین اسلام خیر اور احسان پر ابھارتا ہے، کسی بھی انسان پر ظلم کرنے اور سرکشی چھوڑنے کا کہتا ہے، اسی لیے امت مسلمہ ایک امت ہے، دین اسلام ایک رب کی طرف متوجہ ہونے، ایک نبی کی پیروی کرنے اور ایک کتاب سے رہنمائی حاصل کرنے کا کہتا ہے۔

امام صاحب نے خطبہ حج کے موقع پر کہا اللہ تعالیٰ نے افواہوں کی تصدیق کرنے سے منع کیاہے،دو لڑنے والوں میں صلح کرنے، مخلوق کا مذاق اڑانے، بدگمانی، تکبر اور چغل خوری سے منع کیاہے۔

انھوں نے بتایا اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایاہے کہ یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت سیدھا ہے، شریعت نے دھوکہ دہی، سود خوری، خرید و فروخت کی مجھول شکلوں سے منع کیا اور کاروباری لین دین کے حقوق کو لکھنے کا حکم دیا۔

حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ آج ادا کیا جارہاہے، یوم عرفہ حج کا اہم جزو ہے جس کے بغیر حج نامکمل ہے۔اس سلسلے میں عازمین کی میدان عرفات آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔

حاجی آج نماز فجر منیٰ میں پڑھ کر عرفات کے لیئے روانہ ہوئے عرفات پہنچ کر وہاں قیام کررہےہیں ۔ اس کے بعد خطبہ حج کے بعد حجاج اکرام نمازظہراورعصرایک ساتھ اداکریں گے۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلے کابٹن دبائیں:

دنیا بھر سے لاکھوں فرزندان اسلام9 ذی الحجہ کو میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کانزول ہوتا ہے۔عازمین غروب آفتاب کے ساتھ ہی عرفات سےمزدلفہ روانہ ہوں گے۔ عازمین مزدلفہ میں نماز مغرب اورعشاءایک ساتھ اداکریں گے۔کل یعنی 10ذی الحج کوطلوع آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ سے جمرات جائیں گے اور رمی کریں گے۔ عازمین آج رات رمی کیلئے مزدلفہ کنکریاں چنیں گے۔

حج اسلام کے پانچ ارکان کاآخری رکن ہے۔8 ذی الحجہ سے حج کے ارکان شروع ہو جاتے ہیں۔ذی الحجہ کے پہلے دس ایام میں یوم عرفہ کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔یوم عرفہ اللہ تعالی کی پہچان کادن ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کواپنی عبادت اوراطاعت کی دعوت دی ہے اوراپنے احسان وکرم اورجود وسخا کے دسترخوان بچھا دیئے ہیں۔

عرفہ کادن اورعرفات کا میدان وہ بابرکت زمان اورمکان ہیں، جہاں اﷲتعالی کی جانب سے ہمارے پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر خوشخبری نازل ہوئی تھی کہ اسلام کادین مکمل اورامت پرشریعت کی تکمیل کی عظیم نعمت پوری ہوئی۔ عرفات کے میدان میں جاری مبارک اجتماع ایک طرف مسلم امہ کی عظمت کی علامت ہے تودوسری جانب مسلمانوں کومساوات، بھائی چارے اور وحدت کا درس دیتا ہے۔حضرت ابراہیمؑ کو8 ذی الحجہ کی رات خواب میں نظرآیاتھاکہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کررہے ہیں توان کواس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یانہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھر9 ذی الحجہ کودوبارہ یہی خواب آیاتوان کویقین ہوگیاکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے۔چونکہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین 9ذی الحجہ کوحاصل ہوا تھا اسی وجہ سے9ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

یوم عرفہ حج کا اہم جزو ہے جس کے بغیر حج نامکمل ہے

مناسک حج کی ادائیگی کا آغاز آج سےہوگا

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top