تازہ ترین
بدین میں بجلی کی تاروں سے کرنٹ لگنے سے ایک بچہ جاں بحق، دوسرا زخمی

بدین میں بجلی کی تاروں سے کرنٹ لگنے سے ایک بچہ جاں بحق، دوسرا زخمی

بدین:(11 اکتوبر 2018) سندھ کے شہر بدین میں زمین پر پڑے ہائی وولٹیج سے کرنٹ لگنے سے ایک بچہ جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔ حیسکوچیف نے معاملے کا نوٹس لے کر لائن مین سمیت دوملازموں کو معطل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بدین کے نواحی علاقے پنگریو کے قریب اسکول جانے والے طلبا زمین پر پڑی بارہ ہزار وولٹیج کے تاروں میں الجھ گئے۔ جس کے نتیجے میں کرنٹ لگنے سے ایک طالب علم جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعہ گاؤں ناتھو لباری کے قریب پیش آیا، جہاں اسکول جانے والے دوبچے بجلی کی لٹکتی تاروں کی زد میں آگئے۔پولیس کے مطابق کرنٹ لگنے سے آٹھ سالہ شنکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ اسے بچاتے ہوئے اس کا چھ سالہ ساتھی جھلس کر زخمی ہوگیا، جسے تشویشناک حالت میں حیدرآباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مین سپلائی لائن کی تاریں گذشتہ روز ٹوٹ کر گری تھیں مگر حیسکو حکام نے اطلاع کے باوجود نہ انہیں درست کیا اور نہ ہی بجلی کی فراہمی منقطع کی۔

دوسری جانب حیسکو چیف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ڈی او تلہار اور لائن سپرنٹنڈنٹ کو معطل کر دیا۔ترجمان حیسکو محمد صادق کے مطابق تاروں کی مرمت کے لیے ٹیم روانہ کر دی گئی ہے اور تفتیش کے بعد غفلت ثابت ہونے پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی تاروں سے کرنٹ لگنے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔

گزشتہ ماہ اٹھارہ ستمبر کو صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ میں ایک نجی اسکول میں لوہے کا پائپ بجلی کی تار سے ٹکرانے کے نتیجے میں ایک استاد اور تین طلبا جاں بحق ہوگئے تھے۔علاوہ ازیں کراچی کے علاقے احسن آباد میں بھی بجلی کی تار گرنے سے آٹھ سالہ بچے محمد عمر کے بازو جھلس گئے تھے اور انہیں کاٹنا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مانسہرہ: کرنٹ لگنے سے ٹیچر اور 3 طالب علم جاں بحق

کراچی: بچے کو کرنٹ لگنے کا معاملہ، کے الیکٹرک کے دفتر پر چھاپہ،5 افراد گرفتار

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top