تازہ ترین
بارہواں کھلاڑی

بارہواں کھلاڑی

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سیاست کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ابھی تک کرکٹ کے میدان سے باہر نہیں نکل پارہے ، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کرکٹ بائی چانس ہوتا ہے جبکہ امور مملکت کا کھیل چانس پر نہیں بلکہ یقین کے تحت کھیلا جاتا ہے ۔ امور مملکت شطرنج یا کرکٹ کا کھیل نہیں کھیل بہرحال کھیل ہوتا ہے جبکہ امور مملکت قوموں کی زندگی کو بناتا، سنوارتا اور روشن مستقبل کی تعمیر کرتا ہے اس میں معمولی سی غلطی یا کوتاہی قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سیاست کے میدان میں عمران اور میاں داد وکٹ پر کھڑے ہیں عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عمران خان اورمیاں داد کی کرکٹ کے میدان میں جوڑی بلا شبہ کرکٹ کی دنیا میں مثالی تھی لیکن آج کے سیاسی میدان میں ان کے ساتھ میاں داد جیسا تجربہ کار ذہین اور کرکٹ کے اسرار و رموز سے واقف کھلاڑی موجود تھا لیکن آج ان کا پارٹنر میاں داد جیسا زیرک کھلاڑی نہیں بلکہ سیاسی میدان کا بارہواں کھلاڑی بھی نہیں ہے، عمران خان نے عثمان بزدار میں نامعلوم ایسی کونسی خوبی یا صلاحیت دیکھی جو اس کو اپنے ساتھ اوپننگ بیسٹمین کی حیثیت سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے عہدہ پر متمکن کردیا۔عثمان بزدار کی انتہائی تباہ کن کارکردگی کی بدولت خود عمران خان کی صلاحیت اور اہلیت پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں نہیں معلوم عمران خان کب تک وفاق میں بیٹھ کر پنجاب میں وائسرائے کا کردار ادا کرکے عثمان بزدار کی خامیوں اور نااہلی پر پردہ ڈالتے رہیں گے ۔ عثمان بزدار پنجاب میں امن وامان خاص طور پر پولیس کی عمران خان کے خواب کی طرح منظم کرنے اور نظم و نسق کا پابند رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اور اپنی ناکامی کا عضہ چھ ماہ کے دوران درجنوں اعلیٰ پولیس افسران کو معطل کرنے یا تبادلوں پر نکالتے نظر آتے ہیں۔ عمران خان نے پاکستان کے عوام کو ایک بار پھر یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ موجودہ اقتصادی اور انتظامی بدحالی سے پریشان نہ ہوں، عوام کو طفل تسلی دینے کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے، قیام پاکستان سے آج تک ملک میں جتنے بھی حکمران برسر اقتدار آئے انہوں نے عوام کو اچھے دنوں کی امید دلانے والی لوریاں سنا سنا کر پاکستان کی درگت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہمارا برسراقتدار طبقہ خود تو عوام کے پیسوں پر عیش و عشرت کی زندگیاں بسر کرتا ہے اور غریب عوام جو پہلے ہی بے تحاشا ٹیکسز، مہنگائی اور بیروزگاری کے پہاڑ تلے دبے ہوئے ہیں ان سے اپنی بے کسی پر صبر وتحمل کا مطالبہ کرتا ہے۔ عثمان بزدار کیساتھ ون ڈائون کی پوزیشن پر عمران خان ٹیم کے مایہ ناز ماہر اقتصادیات اسد عمر اپنی اقتصادی پالیسی کی ناکامی کو چھپانے کے لئے ناقابل بھروسہ کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی موجودگی میں عوام کو خدشہ ہے کہ کہیں اسد عمر پانی، بجلی، گیس اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرنے کے بعد عوام پر کھلی فضا میں سانس لینے پر بھی ٹیکس عائد نہ کردیں۔عمران خان کی کرکٹ کی کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی میدان میں ان کی کامیابی کی توقع رکھنے والے نامی گرامی کالم نویس اور ٹیلی ویژن اینکر بھی اب اپنےآپ کو لعنت بھیج رہے ہیں لیکن یہ لوگ بھی پاپی پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ حالات جلد سدھر جائینگے۔ یہ بات صحیح ہے کہ پنجاب میں مجرموں اور سیاسی مخالفین کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا یہ سلسلہ بہت پرانا ہے جو ایوب خان کے عہد میں شروع ہوا۔ پاکستان میں سیاسی اختلاف رکھنے والے افراد کی پہلی پارٹی کی داغ بیل رکھنے والے حسین شہید سہروردی کی بیروت کے ہوٹل میں پراسرار موت کا ذمے دار اس وقت کے حکمرانوں کو قرار دیا جاتا ہے اور الزام لگایا جاتا ہے کہ حسین شہید سہروردی بیروت کے ہوٹل میں قیام کے دوران زہر دے کر ہلاک کیا گیا اس کے بعد مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان نے ماورائے عدالت قانون شکن افراد اور حکومت مخالف سیاستدانوں کو ہلاک کرنے کا کام پولیس کے سپرد کیا، بے گناہ عوام اور سیاسی مخالفین کو ہلاک کرنے کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ آج تک جاری ہے۔پنجاب میں اس قسم کی وارداتیں کوئی نئی نہیں ہیں وہاں آئے دن ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن گزشتہ دنوں ساہیوال میں قانون نافذ کرنیوالے ادارے کے اہلکاروں کے ہاتھوں معصوم بچوں کی موجودگی میں ان کے والدین کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے والے سانحے پر نہ صرف وزیراعظم عمران خان آبدیدہ ہوئے بلکہ عام انتخابات کے نام پر جس خلائی مخلوق نے موجودہ حمکرانوں کو مسلط کیا ہے وہ بھی آہستہ آہستہ اعتراف کرنے لگے ہیں کہ اس نے جن لوگوں کو ایوان اقتدار تک پہنچانے میں مدد دی وہ عقل و شعور اور امور مملکت سے کتنے عاری ہیں ۔ کرکٹ کی اس ٹیم میں سوائے ایک عمران خان کے باقی ٹیم ارکان کی حیثیت بارہویں کھلاڑی کی بھی نہیں ہے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top