تازہ ترین
ایم کیو ایم کی متنازعہ کنوینرشپ کیس کا فیصلہ 26 مارچ کو سنایا جائے گا

ایم کیو ایم کی متنازعہ کنوینرشپ کیس کا فیصلہ 26 مارچ کو سنایا جائے گا

اسلام آباد: (13 مارچ 2018) الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم کی متنازعہ کنوینر شپ کیس میں اپنے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے ایم کیو ایم کی کنوینر شپ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

ایم کیو ایم بہادرآباد گروپ کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیئے کہ فاروق ستار نے اپنی مرضی سے پارٹی آئین میں ترمیم کے بعد غیر قانونی طور پر انٹراپارٹی الیکشن کروائے۔ جبکہ پارٹی آئین کے مطابق اگلے انٹراپارٹی انتخابات 2020ء میں ہونا ہیں۔انہوں نے کہا کہ رابطہ کمیٹی نےپارٹی آئین کے تحت سینیٹ ٹکٹ کا اختیار فاروق ستار سے لے کر خالد مقبول صدیقی کو دیا۔ رابطہ کمیٹی اور جنرل ورکرز اجلاس بلانے کا اختیار رابطہ کمیٹی کے پاس ہے۔

ممبر کمیشن ارشاد قیصر نے کہا کہ انہوں نے آپ کو اور آپ نے ان کو  پارٹی سے نکال دیا۔ فروغ نسیم نے فاروق ستار کے انٹراپارٹی انتخابات سے متعلق میڈیا رپورٹس الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیں۔فاروق ستار کے وکیل بابر ستار نے کہا کہ فروغ نسیم نے الیکشن کمیشن کے دائرہ کار سے ہٹ کر پارٹی آئین پر دلائل دیئے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینر شپ کے معاملہ کا جائزہ لینا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ ایسا نہیں جس میں الیکشن کمیشن کو پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دی گئی ہو۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنے دائرہ کار پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 26 مارچ کو سنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

سینیٹر طاہر مشہدی کا ایم کیو ایم پاکستان چھوڑنے کا اعلان

ایم کیو ایم کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی کی خودکشی کی کوشش

 

Comments are closed.

Scroll To Top