تازہ ترین
اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ علامتی اجلاس، 7 مذمتی قراردادیں منظور

اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ علامتی اجلاس، 7 مذمتی قراردادیں منظور

اسلام آباد: (11 اکتوبر 2018) مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پارلیمنٹ کے مشترکہ علامتی اجلاس میں سات مذمتی قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ ان قراردادوں میں نیب کی کارروائیوں کو انتقامی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے پارلیمنٹ کے غیر روایتی اور مشترکہ علامتی اجلاس کے اختتام پر سات قراردادیں متفقہ طور پرمنظور کرلیں۔ یہ قراردادیں مرتضیٰ جاوید عباسی، شاہدہ اختر اور دیگر ارکان نے پیش کیں۔

ان قراردادوں میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی گرفتاری اور ان پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت انتقامی کارروائی میں نیب کی سہولت کار بنی، چون روز میں خزانے کو اٹھائیس سو ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔قراردادوں میں کہا گیا کہ سی پیک کو متنازعہ بنایا گیا جبکہ آئی ایم ایف کی کڑی شرط مان کر قرض لینے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مہنگائی کے سیلاب کے مترادف قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود بنی گالہ سمیت دیگر جگہوں پر صحیح معنوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن نہ کرنے اور ریڑھی بانوں کے خلاف اقدامات کے خلاف بھی قرارداد منظور کی گئی۔خیبرپختونخواہ کے احتساب کمیشن کے خاتمہ کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ جبکہ پشاور میٹرو بس منصوبہ کے خلاف تحقیقات کرنے سمیت میڈیا کو پارلیمنٹ میں عدم داخلہ کی مذمتی قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

سلمان شہباز نے نیب لاہور میں بیان ریکارڈ کرادیا

شہباز شریف کی گرفتاری: لیگی ارکان کا پنجاب اسمبلی کے باہر شدید احتجاج

Comments are closed.

Scroll To Top