تازہ ترین
آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔۔۔

آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔۔۔

گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس میں دھرنا اسٹائل کا طرز تخاطب اختیار کرتے ہوئے سلطان راہی اسٹائل میں اعلان کیا کہ وہ ملکی دولت کو لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ نیب کی طرف سے کی گئی حالیہ گرفتاریوں پر ہونے والی حزب اختلاف کی تنقید پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے غیض و غضب کے دامن کو نہیں چھوڑا۔ بلاشبہ ایسے تمام افراد و عناصر کو جنہوں نے ملک کے عوام کے خون پسینے سے حاصل شدہ ٹیکس کی رقوم کو لوٹا ،مروجہ قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا ملنی چاہیئے نواز شریف ،شہباز شریف،خاقان عباسی اور دوسرے سیاسی رہنما جن پر کرپشن کا الزام ہے انکا ہر قیمت پر غیر جانبدارانہ احتساب ہونا چاہیئے ۔ عوام کو یہ توقع تھی کہ نواز و شہباز کی کرپشن پر عمران خان پوری گھن گرج کے ساتھ جہانگیر ترین،بابر اعوان ،زلفی بخاری ،علیم خان اور دیگر اپنی جماعت کے کرپٹ عناصر کے خلاف بھی آواز بلند کریں گے جن پر کرپشن کے الزامات ہی نہیں بلکہ وہ نیب کی حاضریاں بھی بھگت رہے ہیں۔شہباز شریف کی گرفتاری پر کچھ لوگ جن میں بدنام زمانہ اینکر اور کالم نویس بھی شامل ہیں شادیانے بجا رہے ہیں ۔ پاکستان کی سیاست میں انتقام کا جذبہ شروع سے موجود رہا ہے اور سیاستدانوں کا جیل میں آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ پاکستان کی غریب عوام کی 70 فیصد آبادی روٹی ،کپڑا، تعلیم اور پانی جیسی نعمت سے محروم ہے ۔ ان مسائل پر ہمارے سیاستدانوں نے ہمیشہ زبانی کلامی بلند و بانگ دعوے کیے اس میں کسی جماعت کی تخصیص نہیں ہے مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف اورعوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔اقتدار میں آنے کے بعد یہ جماعتیں عوام کی بھوک و افلاس کو بھول کر اپنی ذاتی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ جہاں تک تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کا تعلق ہے اسکو برسراقتدار آئے ابھی مشکل سے دو ماہ ہونے والے ہیں اس پر مالی بدعنوانیوں کا کوئی اسکینڈل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے البتہ انتظامی نااہلی میں نت نئے ریکارڈ قائم کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے کسی غریب ،بیوہ کی داد رسی کسی بھی وزیر اعلیٰ نے نہیں کی ۔ پاکپتن کے ڈی پی او اور پنجاب کے دو ڈپٹی کمشنروں کا معاملہ صوبائی انتظامیہ کے سربراہ کی انتظامی اور سیاسی سوجھ بوجھ کی غمازی کررہا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے غریب اور اقتصادی طور پر بدحال عوام کو اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران بڑی شد و مد کے ساتھ یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ برسر اقتدار آکر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا انسداد کریں گے ۔ حکومت سنبھالنے کے چند دنوں بعد ہی گیس اور بجلی کی قیمتوں کا جو بم عوام پر گرایا گیا تھا اس سے وہ ابھی سنبھلنے نا پائے تھے کہ سی این جی گیس کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا ریکارڈ توڑ اضافہ کردیا گیا اس کے ساتھ ہی عمران خان نے موجودہ مہنگائی کی شرح میں مذید زبردست اضافہ کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کے اعلان کے باوجود آج وزیر خزانہ کاسہ گدائی لیے آئی ایم ایف حکام کے ساتھ قرضہ لینے کے مذاکرات کرتے نظر آرہے ہیں ۔ تازہ خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنی شرائط پر قرضہ دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ سی این جی کی قیمت میں ریکارڈ توڑ اضافے سے محنت کش عوام کو سستی سواری سے محروم کرکے بے روزگاری میں اضافہ ہوجائے گا۔ کراچی شہر جو پہلے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت کا شکار ہے بسوں کے موجودہ کرائے میں تین گنا اضافے سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے شروع ہوجائیں گے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے عوام کو مہنگائی کو برداشت اور قربانی دینے کے لیے تیار رہنا پڑے گا ۔ اب عوام یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ملک میں سستی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کے لیے وزیر اعظم ہاوس سے بنی گالی تک اڑنے والے ہیلی کاپٹر کی سہولت ان کو بھی مہیا کی جائے تاکہ غریب عوام کی تھوڑی بہت اشک شوئی ہوسکے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top