تازہ ترین
آو۔۔۔۔۔۔۔یوٹرن کا جشن منائیں

آو۔۔۔۔۔۔۔یوٹرن کا جشن منائیں

یو ٹرن  میں دنیا کے عظیم لیڈر عمران خان آئندہ چند دنوں کے بعد اپنی حکومت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی 100 دن کی تقریبات منعقد کرنے والے ہیں ۔ ان 100 دنوں کے دوران عمران خان پاکستان کے بھوکے ننگے اور بے روزگار عوام کے لیے آسمان سے جو تارے توڑ لائے ہیں ان میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں کئی گنا اضافہ شامل ہے ۔ ملک کی پارلیمانی تاریخ میں یہ شاید پہلے پارلیمانی لیڈر ہیں جن کی قیادت میں موجودہ پارلیمنٹ نے اپنی تشکیل سے آج تک ایک ٹکے کی بھی قانون سازی نہیں کی البتہ ان کے وزرا اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہنگامہ آرائی اور غیر شائستہ زبان کے استعمال نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ۔ 13 اگست سے اب تک قومی اسمبلی کے جتنے بھی اجلاس ہوئے ان میں سوائے ضمنی بجٹ کی منظوری کے کوئی تعمیری کام نہیں ہوا ۔ مالیاتی بل کی منظوری میں بھی عوام کے لئے عمران خان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی کم آمدنی رکھنے والے کروڑوں لوگوں کو سوائے مستقبل کے سنہرے خوابوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔بلاشبہ پاکستان کے چند بڑے مسائل میں کرپشن سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کو انتہائی بھونڈے انداز میں حل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ احتساب کو انصاف کا قاتل بنادیا ہے ، بدعنوان عناصر کے خلاف نیب کی یکطرفہ کارروائیاں موجودہ حکومت کی غیر جانبداری کو داغدار بناچکی ہیں ۔ قومی اسمبلی کے اندر 3 ماہ میں ہونے والے مختلف اجلاسوں میں جو پرائیویٹ بلزپیش ہوئے ان کو اسپیکر قومی اسمبلی نے ایسی کمیٹیوں کے سپرد کردیا جن کا ابھی تک وجود تک عمل میں نہیں آیا ہے ۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے مسئلے کو اپوزیشن اور حکومت نے اپنی انا کا مسئلہ بنا رکھا ہے ۔ اپوزیشن نے دھمکی دے رکھی ہے کہ جب تک پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر کو نہیں بنایا جائے گا وہ کمیٹی کی تشکیل نہیں ہونے دیں گے ۔ اس سے قبل قومی اسمبلی کے اسپیکر اعلان کرچکے ہیں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کا حق اپوزیشن کا ہے لیکن عمران خان کیساتھ قومی اسمبلی کے اسپیکر کی ملاقات کے بعد قومی اسمبلی کی صورتحال یکسر تبدیل نظر آرہی ہے ، جب تک قومی اسمبلی میں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کا فیصلہ نہیں ہوجاتا قومی اسمبلی کی بقیہ کمیٹیوں کی تشکیل بھی کھٹائی میں پڑی رہے گی ۔ اپوزیشن نے اپنے مطالبے کی منظوری تک تمام کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر رکھا ہے جبکہ اسمبلی کے قوائد و ضوابط کے مطابق اسپیکر پر لازم ہے کہ پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کے تیس دن کے اندر اندر قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کریں، یہ مدت سترہ ستمبر کو ختم ہوچکی ہے لیکن دنیا کے عظیم پارلیمانی یوٹرن وزیراعظم کے آگے پارلیمنٹ بے بس نظر آتی ہے۔ 100 دن کے ایجنڈے کے اہم نقاط میں کتنی پیش رفت ہوئی اس کے متعلق بھی مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے خاص طور پر جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ فاٹا کو مکمل طور پر قومی دھارے میں شامل کرنے کے اعلانات صرف کاغذی ہیں عملی شکل کا کہیں سراغ نہیں ملتا یہی صورتحال بلوچستان کی بھی ہے یہاں حکومت سابق حکمرانوں کی طرح سرداروں، نوابوں کے آگے جھکنے کے لیے مجبور ہے ۔ کل تک سینیٹ کے چیئرمین جو بلوچستان میں گمنام سیاسی ورکر کی حیثیت رکھتے تھے عمران خان اور آصف زرداری گٹھ چوڑ کے نتیجے میں ملک کے اعلیٰ ترین ادارے کا چیئرمین بن گیا ۔ سینیٹ کی چیئرمین شپ کے عہدے کے جو آئینی تقاضے ہیں اس پر بلوچی چیئرمین نے عملدرآمد شروع کیا تو آج اس کو عہدے سے علیحدگی کی ڈھکی چھپی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے کے جو وعدے کیے تھے ان کا ذکر کرنا ہی فضول سمجھا جاتا ہے ۔ 100 دن کے اندر موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ کاسہ گدائی لے کر ملک ملک پھرنا ٹھہرا لیکن دنیا بھی اب یوٹرن رہنما کو پہچاننے لگی ہے یہی وجہ ہے کہ پہلے جن ممالک کے سامنے کشکول پھیلایا گیا انہوں نے تو مالی مدد کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن خدا بھلا کرے پاکستان کے مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا جنہوں نے ملکی حالات سے مجبور ہوکر ہنگامی طور پر امداد دینے والے ممالک کے سربراہان سے ملاقات کرکے انکار کو اقرار میں تبدیل کرنے میں مدد دی اور اس کے نتیجے میں سعودی عرب، چین اور اب متحدہ عرب امارات سے مالی امداد ملنا شروع ہوگئی ہے۔رہ گیا 100 دن کے ایجنڈے کی تکمیل یا کامیابی کی تو ملک بھر میں تقریبات کے انعقاد کے فیصلے پر قوم حیران ہے کہ یہ تقریبات کس کامیابی پر منعقد کی جائیں گی کیا سو دن کے اندر عوام کے مسائل کم ہوئے یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا کوئی یوٹرن بھی نہیں ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں جشن منانے کی ایک اور مثال بھی ملتی ہے جو ایوب خان نے اپنے دس سالہ اقتدار کے مکمل ہونے پر منایا تھا ۔ بلاشبہ ایوبی دور میں صنعتی، تجارتی اور تعلیمی ترقی ہوئی اس کا ثبوت آج بھی کراچی، فیصل آباد اور لاہور کے صنعتی ادارے دے رہے ہیں جہاں لاکھوں افراد اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں لیکن آمریت بہرحال آمریت ہی ہوتی ہے وہ جمہوریت کا نیم البدل نہیں ہوسکتی ۔ایوب خان کے دور میں جمہوری اداروں کو مکمل طور پر تباہ کرکے بنیادی جمہوریت کا آمرانہ نظام نافذ کیا گیا ، اپوزیشن کو مکمل طور پر دیوار سے لگادیا گیا عوام نے ایوب خان کے دس سالہ جشن کو مکمل طور پر مسترد کردیا اس کے نتیجے میں ایوب خان کو اقتدار سے دسبتردار ہونے پر مجبور کردیا اس لیے ہمارا مشورہ ہے کہ سو دن کی کامیابی کا جشن مناتے وقت ایوب خان کے حشر کو یاد رکھا جائے خیر سے عمران خان کی کابینہ میں ایوب خان کے خاندان کی بھرپور نمائندگی موجود ہے اس سے ہی دریافت کرلیں کہ اس کے دادا کی حکومت کے زوال کے کیا اسباب تھے۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top