تازہ ترین
آعندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں

آعندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو جب سے لاہور کورٹ کے احکامات کے تحت جیل سے رہائی نصیب ہوئی ہے صبح سے رات گئے تک گلستان عمران خان میں چہچہانے والے چرندو پرند کی زبانیں تقریباً گنگ ہوگئیں ۔ چند دن قبل تک گیڈر بھبکیاں دینے والے سیاستدان اور حکومت وقت کے مائوتھ پیس اینکر حضرات اپنے پروگرامز سے بھی اکثرو بیشتر غائب رہنے لگے ہیں اور گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ عدالت عالیہ نے شہباز شریف کو ضمانت دے کر بڑا ظلم کیا ہے جس شخص کو بغیر ثبوت کے وہ عدالت کا فیصلہ آنے سے قبل مجرم قرار دینے میں اپنی جھوٹ بولنے کی تمام صلاحیتیں بروے کار لارہے تھے وہ وقتی طور پر زمیں برد ہوگئیں۔ عوام کی نگاہوں میں بے بنیاد الزامات کی آڑ میں سیاستدانوں کو مجرم قرار دینے والے ٹی وی اینکر شہباز کی رہائی کے بعد سیاسی تجزیہ نگار کے بجائے پیشہ ور گواہ کی مسلمہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں، کاش سپریم کورٹ آف پاکستان نے جھوٹے گواہوں کے متعلق جو تاریخی فیصلہ کیا ہے ا سکا اطلاق جھوٹ پر مبنی کاسہ لیس ٹی وی اینکرز پر بھی ہو، اگر ایس ہو جائے تو پاکستانی قوم یقینا اس ذہنی انتشار سے محفوظ ہو جائے گی جو آج کل جھوٹ اور سچ پر مبنی ٹی وی اینکرز کی وجہ سے بڑی تیزی کیساتھ پھیل رہا ہے۔ نیب نے زبردست عوامی دبائو سے مجبور ہوکر جب سے حکمران جماعت کے بدعنوان اور ملکی دولت کو لوٹنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی ہے تو نیب کی کارکردگی اور جانبداری پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حزب اقتدار سیاستدان بھی برا فروختہ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پشاور میں نیب حکام کے آثار قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری اور انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے کے واقعے پر وزیراعظم سے شکایت کی جس پر عمران خان نے چیئرمین نیب سے جواب طلب کرکے یقینا ایک اچھا فیصلہ کیا ، کاش یہ اقدام اس وقت اٹھالیا جاتا جب پنجاب یونیورسٹی کے قابل ترین وائس چانسلر مجاہد کامران کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں پیش کیا جارہا تھا۔ سرگودھا کے میاں جاوید احمد کو مردہ حالت میں ہتھکڑیاں لگا کر ان کی لاش اسپتال لے جائی جارہی تھی ۔ عبدالصمد پر الزام ہے کہ انہوں نے محکمہ آثار قدیمہ خیبرپختونخوا میں غیر قانونی بھرتیاں کیں اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ۔ ڈاکٹر عبدالصمد کو نیب اور اینٹی کرپشن کے محکمے نے گزشتہ تین سالوں سے تفتیش کے نام مفلوج کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر عبدالصمد یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے جھوٹ اور دباو کے باوجود اپنے سراکاری فرائض انتہائی محنت اور جانفشانی سے ادا کیئے ۔ بین اور اینٹی کرپشن کے ہاتھوں انکی تذلیل کا علم یقینا کے پی حکومت کو ہوگا لیکن انہوں نے خاموشی کا روزہ محض اس وجہ سے رکھا ہوا تھا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی سب سے بڑے مخالف ن لیگ نیب پر سنگین جانبداری کے الزامات عائد کررہے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب و سرگودھا کی جامعات کے پروفیسرز کی سرعام ہتک پر خاموش رہے۔ وزیر اعظم ،وزیر اعلی کے پی کے اور انکی کابینہ کے ارکان ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری پر باخبر ذرائع کے مطابق یہ کہنا ہے کہ اسکا مقصد نیب کی طرف سے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور انکی کابینہ کے بعض اہم ارکان کے خلاف شروع ہونے والی تحقیقات پر اثر انداز ہونا ہوسکتا ہے۔چیئرمین نے جس سرعت کے ساتھ حکمران جماعت کے واویلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالصمد کے کیس کی فائل طلب کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ چیئرمین کی اپنی تحقیقات سے کیا برآمد ہوتا ہے ۔ وزیراعظم کی ہدایت پر نیب کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے عبدالصمد کی گرفتاری کے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے، انصاف کا یہ دہرا معیار ہی آج نیب پر خاص طور پر ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال جیسی غیر متنازع شخصیت پر انگلیاں اٹھنے لگیں ہیں۔نیب کیساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے اپسیکر اسد قیصر بھی بعض وفاقی وزرا اور پی ٹی آئی کے عقاب صفت جانثاروں کی زد میں آئے ہوئے ہیں اسد قیصر کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی اپنے فرائض منصبی غیر جانبداری اور آئین پاکستان کے تحت ادا کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتے رہتے ہیں جس سے بعض وزرا جن میں وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیراطلاعات فواد چوہدری خاصے ناراض نظر آتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ اسد قیصر قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں لیکن اسپیکر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد اخلاقی اور آئینی طور پر ان کی ذات سیاسی وابستگی سے بالا ہوچکی ہے اس لیے اسپیکر کی حیثیت سے وہ ایوان میں موجود ہر رکن کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ شہباز شریف کے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے رکن منتخب ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے بعض ارکان اسپیکر سے سخت ناراض نظر آتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اسد قیصر نے شہباز شریف چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کے بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کرنے کی راہ میں اسد قیصر ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں اس لئے شیخ رشید اور ان کے ہمنوا اسد قیصر کو اسپیکر کے عہدے سے ہٹانے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ملک کے موجودہ سیاسی اور اقتصادی حالات دن بدن بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں لیکن ہمارے سیاسی لیڈرز کو جن میں حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتیں شامل ہیں کسی کو عوام کے مسائل پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہورہی ۔ آئی ایم ایف کے حوالے سے ہمارے وزرا عوام کو مہنگائی میں مزید اضافے کی نوید سنارہے ہیں۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top