تازہ ترین
آئی جی نہیں اردلی چاہیئے

آئی جی نہیں اردلی چاہیئے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے سو دن کے ایجنڈے کی تکمیل کا وقت جیسے جیسے قریب آتا جارہا ہے حکومت کی بوکھلاہٹ اور پریشانیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ سو دن کی کارگزاری یا کارکردگی میں نمایاں کارنامہ تین ماہ کی مختصر مدت میں چار انسپکٹر جنرلز پولیس کی تانا شاہی ٹیلیفونک حکم کے ذریعے تبدیلیاں ہیں۔ ان چاروں انسپکٹر جنرنلز پولیس کو وزرا کے احکامات پر فوری عمل درآمد نہ کرنے اور ٹیلی فون کال پر فورا کان نہ دھرنے کے الزام میں صوبہ بدری یا عہدے سے تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پہلے انسپکٹر جنرل پنجاب کی تبدیلی کو حکم عدولی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیورو کریٹس کو ہمارے احکامات پر عمل کرنا ہوگا خواہ یہ آئین و قانون کے منافی کیوں نہ ہو ۔ پنجاب کے دوسرے انسپکٹر جنرل کی تبدیلی بھی حکم عدولی کے جرم میں عمل میں آئی اس کے علاوہ عمران خان کے انتہائی پسندیدہ کے پی کے کے انسپکٹر جنرل بھی پنجاب کے حکمرانوں کو پسند نہیں آئے اور وہ استعفیٰ دے کر اپنے گھر چلے گئے۔تازہ ترین واقع اسلام آباد آئی جی کے ساتھ ہوا جس میں وفاقی وزرا کے صاحبزادے اور علاقے کے مکینوں کے درمیان نجی جھگڑا ہوا ،اس جھگڑے کے نتیجے میں وفاقی وزیر کا نزلہ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد پر گرا ۔ یہ واقعات اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ تحریک انصاف کو ایسی نوکر شاہی بالکل پسند نہیں ہے جو انکے اشاروں پر نہ ناچے اور آئین و قانون کی پاسداری پر عمل پیرا ہو ۔ انکو ایسے پولیس افسران ،ڈپٹی کمشنر اور دوسرے سرکاری عہدے دار چاہیئے جو اردلی بن کر انکی تابیداری کریں ۔ عمران خان کی قیادت میں رونما ہونے والی یہ پہلی بڑی تبدیلی ہے جو پاکپتن کے ڈی پی او سے شروع ہوکر اسلام آباد تک پہنچی ہے حالانکہ پاکپتن کے واقع کے بعد عدالت عالیہ یہ ہدایت کرچکی ہے کہ سرکاری حکام کے کاموں میں مداخلت نہ کی جائے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے وزرا اور ارکان اسمبلی نے اس ہدایت کو ہوا میں اڑا دیا اور مداخلت جاری رکھے ہوئے ہیں۔آئی جی اسلام آباد کے تبادلے پر عدالت عالیہ نے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو طلب کرکے اصل کیس معلوم کیا تو وفاقی سیکرٹری داخلہ نے انکشاف کیا کہ آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ انکے علم میں لائے بغیر کیا گیا ہے۔ آئی جی جیسے ذمے دار افسران کو محض زبانی احکامات پر تبدیل کرکے ملک کی انتظامیہ کووہی پیغام دیا جارہا ہے جسکا اظہار فواد چوہدری نے کیا تھا کہ اگر نوکری کرنی ہے تو ہماری خواہشات اور مرضی کے مطابق کرو بصورت دیگر دربدری یا گھر کا رخ اختیار کرو۔ حکومت کے ان اقدامات سے بیورو کریٹس میں زبردست بے چینی پائی جاتی ہے اسکا علم وزیر اعظم عمران خان کو بھی ہے، انہوں نے ایک اجلاس میں ملک کے بیورو کریٹس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بلاخوف و خطر قوائد و ضوابط کے مطابق کام کریں، نیب اور ایف آئی اے کو ہدایت کردی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر سرکاری افسران کو خوف و ہراس میں مبتلا نہ کریں لیکن پولیس افسروں کے یہ تبادلے کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔اب تک سو دن کے ایجنڈے کے مطابق دوسری بڑی کامیابی سعودی عرب سے مجموعی طور پر 12 ارب کے مالی پیکج کو قرار دیا جارہا ہے ۔ اس پیکج کے خلاف توقع مل جانے پر عمران خان اور انکی کابینہ کے ارکان مسرت و شادمانی کے شادیانے بجانے میں مصروف ہیں ۔ دوسری طرف عوام حیران و پریشان ہیں کہ آخر وہ کیا حالات و واقعات ہیں جس نے صرف ایک ہفتے کی مختصر مدت میں سعودی عرب کو 12 ارب ڈالر کی غیر مشروط امداد دینے پر آمادہ کیا ۔ ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات عزت مآب فواد چوہدری نے عمران خان کے پہلے دورہ سعودی عرب پر خالی ہاتھ واپس آنے پر واشگاف الفاظ میں قوم کو بتایا کہ کوئی بھی ملک مفت میں کسی کو پیسے نہیں دیتا۔وزیر اطلاعات نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ  سعودی عرب سے جن شرائط پر پیسے مل رہے تھے ہم ان پر لینے کو تیار نہیں لیکن اچانک مالی امداد کے ڈانڈے یمن کی خانہ جنگی اور عرب ممالک خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں اسرائیل کی موجودگی سے تو نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ ہر قیمت پر خطے  میں چین کا اثر و نفوذ کم کرنے کے لیے خلیج کی ریاستوں میں اپنا قدم جمانا چاہتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں گوادر کے قریب عمان کی ریاست کا اسرائیلی وزیر اعظم کا دورہ خطرے کی گھنٹی ہے، اس صورتحال پر پاکستان کی پراسرار خاموشی معنی خیز ہے۔تحریک انصاف کے خارجہ امور کے بقراط شاہ محمود قریشی پاکستان میں اسرائیلی طیارے کی آمد کی خبروں کی پرزور تردید کررہے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم کا طیارہ عمان کس فضائی راستے سے وہاں پہنچا ۔ بہرحال اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ مشتری ہوشیار باش۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top