تازہ ترین
آئی جی سندھ کی تقرری: سندھ حکومت کی جانب سے دائر اپیل مسترد

آئی جی سندھ کی تقرری: سندھ حکومت کی جانب سے دائر اپیل مسترد

اسلام آباد: (22 مارچ 2018) سپریم کورٹ نے سندھ پولیس میں تقرر و تبادلے اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی تقرری کے حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے دائر اپیل مسترد کردی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کے طلب کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ پولیس قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں وقت نہیں تھا، یہاں وقت ہے۔ اسی لیے کیس لاہور لگایا۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اے ڈی خواجہ اکیسویں گریڈ کے افسر ہیں مگر بائیسویں گریڈ پر تعینات ہیں۔ بائیسویں گریڈ کا افسر اے ڈی خواجہ کا ماتحت بن کر کام کر رہا ہے۔ رولز آف بزنس کے تحت سندھ حکومت کو اے ڈی خواجہ کے تبادلے کا اختیار ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ پولیس رولز کے برعکس ہے۔بنچ کے فاضل رکن جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ بائیسویں گریڈ کے جس افسر کی آپ بات کر رہے ہیں، اے ڈی خواجہ کی تعیناتی کے وقت وہ افسر بھی اکیسویں گریڈ کا تھا۔

آئی جی پنجاب تعیناتی کیس سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے ایک مقدمے کا حوالہ دینے پر چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک کو کہا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے بہترین فیصلے موجود ہیں، پھر ہم عدالت عالیہ کے سنگل بنچ کے فیصلے پر انحصار کیوں کریں؟چیف جسٹس نے کہا کہ اے ڈی خواجہ سیاسی آقاؤں کے دباؤ میں کام نہیں کرتا، کہیں اس لیے تو تبادلہ نہیں کرنا چاہتے؟

اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتے۔

یہ بھی پڑھیے

نقیب اللہ قتل کیس: آئی جی سندھ نے پولیس انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

آئی جی سندھ نے راؤ انوار سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top