تازہ ترین
آئی ایم ایف کشکول

آئی ایم ایف کشکول

آئی ایم ایف سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا دیو دن بہ دن طاقتور ہوتا جارہاہے، ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کے دعویدار آئی ایم ایف کی سربراہ کے حضور میں کامیاب ترین حاضری دینے کے بعد وطن عزیز واپس پہنچ چکے ہیں یہاں وہ ملک کی سیاسی فضا کو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے اپنے ہی تائید کردہ چیئرمین کو اس کے عہدے سے دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ وزیراعظم کی کابینہ کے شعلہ بیان مقرر وزرا جس شدت کے ساتھ طبل جنگ بجارہے ہیں اس سے خدشہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ ملک کی سیاسی فضا میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ملک کے سنجیدہ سیاسی حلقے اور عوام دونوں حیران و پریشان کبھی بنی گالہ کی طرف دیکھتے ہیں تو کبھی اسلام آباد کے زندان خانے میں بند قائد حزب اختلاف کو دیکھ رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کو ساتھ کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں، ایک طرف فواد چوہدری، فیاض الحسن چوہان، نعیم الحق اور خود عمران خان دوسری طرف احسن اقبال، مریم اورنگزیب، ایاز صادق، مولا بخش چانڈیو اور سعید غنی ایک دوسرے کے خلاف شعلے اگلتے نظر آتے ہیں ، این آر او دینگے نہیں دینگے آئی ایم ایف کی شرائط نہیں مانیں گے کی گردان کرتے ہوئے ملک کے غریب عوام کو درپیش مسائل سے اپنی آنکھیں موند رکھی ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئے چھ ماہ سے زائد ہوچکے ہیں اس مدت میں سوائے یوٹرن کے حکومت کی کوئی بڑی کامیابی نظر نہیں آئی۔ ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی انتظامیہ پر عملی طور پر عمران خان کا کنٹرول نظر آتا ہے خود عمران خان نے اپنے گزشتہ دورہ لاہور کے دوران پنجاب کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پردبے الفاظ میں اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب کی میڈیا ٹیم کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت بھی دی۔ پنجاب اور خبیرپختونخوا میں تحریک انصاف کی میڈیا ٹیم عوام کیساتھ موثر طور پر رابطہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے ۔ حکومت کے ترجمانوں کی سوچے سمجھے بغیر زباں درازی عوام کی بیزاری میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ تحریک انصاف کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے خوش نما نعرے کی بنیاد پر ایوان اقتدار میں پہنچی ہے لیکن چھ ماہ کے مختصر عرصے میں اس کے بعض ارکان کی بدعنوانیوں کی جھوٹی سچی کہانیاں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ سینہ گزٹ کے ذریعے عوام کے ذہنوں کو پرا گندہ کررہی ہیں۔ حکومت کے بعض وزرا اپنی چھ ماہ کی کارکردگی کو حقائق کے برعکس بڑھا چڑھا کرپشن کرنے میں مصروف ہیں، مثلاً گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر عبدالرزاق دائود نے دعویٰ کیا کہ امسال ملک کی درآمد سابق حکومتوں کے مقابلے میں ریکارڈ ہوگئی اللہ کرے عبدالرزاق دائود کا دعویٰ صحیح ثابت ہوسکیں کیا یہ ریکارڈ واقعی موجودہ حکومت کی بہتر کارکردگی کا نتیجہ ہے ،2013 کے انتخابات کے نتیجے میں (ن) لیگ حکومت کو تاریخ کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا فیصل آباد اور کراچی کے صنعتی ادارے گیس اور بجلی کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے تھےجس کے نتیجے میں درآمد کنندگان غیر ملکی کمپنیوں کے آڈر بروقت پورا نہ کرسکے، خوش قسمتی سے امسال بجلی و گیس کے صنعتی اداروں کی سپلائی بلاتعطل جاری ہے جس کے نتیجے میں کارخانوں کے پہیے بھی دن رات چل رہے ہیں۔چھ ماہ کے دوران تحریک انصاف کو بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں جلاو گھیراو کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔حسن نثار، ارشاد بھٹی اور منصور آفاق کا شمار ملک کے ممتاز کالم نویسوں اور ٹی وی اینکرز میں ہوتا ہے لیکن آج کل ان کے دماغ اور زبان عمران خان کی حکومت کی کامیابیوں یا ناکامیوں پر ساتھ دیتے نظر نہیں آتے ۔ عمران خان کے بنی گالہ کے رہائشی کالم نویس نے تویہاں تک مشورہ دیدیا ہے کہ وہ اپنے مشیروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں خاص طور سے مشرف دور کے مشیر اور وزیر جو کابینہ کے رکن ہیں ان پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وفاقی کابینہ میں آج بھی ایسے وزرا شامل ہیں جن کے دل سے جنرل مشرف کی یاد نہیں مٹی ہے ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے مقابلے میں مشرف کا دور بہت اچھا اور بہتر تھا ۔ جنرل مشرف کی سیاسی نرسری کے فارغ التحصیل سیاستدانوں ہی کی بدولت ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ہوا۔ کراچی کو بے گناہ عوام کی مقتل گاہ میں تبدیل کیا گیا، عدالت عالیہ کے ججوں کو سڑکوں پر رسوا اور مارا گیا، اس نرسری کے لوگ ہی آج ڈی چوک اسلام آباد کے دھرنے کو تحریک انصاف کی کامیابی کا سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960ء سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

 

Comments are closed.

Scroll To Top