تازہ ترین
انصارالشریعہ سے متعلق سی ٹی ڈی کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش

انصارالشریعہ سے متعلق سی ٹی ڈی کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش

کراچی: (13 ستمبر 2017) کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی تجزیاتی رپورٹ میں دہشت گرد تنظیم انصارالشریعہ کے بارے مزید انکشاف سامنے آگئے، تنظیم کا کالعدم القاعدہ یا داعش سے کوئی تعلق نہیں بلکہ النصرہ فرنٹ نامی تنظیم کے زیر سائے کام کررہی ہے۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ اعلٰیٰ حکام کو ارسال کردی ہے، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دہشتگرد تنظیم انصارالشریعہ کا کالعدم القاعدہ یا داعش سے کوئی تعلق نہیں ہے، دہشتگرد تنظیم میں بڑی تعداد لشکرطیبہ اور جیش محمد چھوڑنے والوں کی ہے۔ رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تنظیم میں موجود جنگی تربیت کے حامل افراد شام کے سابق فوجی بھی ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں سی ٹی ڈی نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ انصارالشریعہ میں ایسے لوگ بھی ہیں جو داعش کے نظریات سے انحراف کرکے واپس آئے ہیں۔ رپورٹ میں مفتی شاکر گروپ سے متعلق معلومات بھی موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طریقہ واردات سے لگتا ہے کہ انصارالشریعہ میں جنگی تربیت کے حامل افراد بھی شامل ہیں، انصارالشریعہ ان تنظیموں میں شامل ہے جو شام کے تنازعے پر داعش کے خلاف ہے۔

تجزیاتی رپورٹ میں کراچی میں سرگرم دو تنظیموں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انصارالشریعہ النصرہ فرنٹ نامی تنظیم کے زیر سائے کام کررہی ہے، جس نے خود کو ایک آزاد گروپ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے

بدین ،کراچی:چھاپے میں انصار الشریعہ کے 4 کارکن گرفتار

انصار الشریعہ بنانے والوں کا تعلق القاعدہ سے ہے، ڈی جی رینجرز

Comments are closed.

Scroll To Top