تازہ ترین
انتخابی اصلاصات ایکٹ: نون لیگ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سے ریکارڈ طلب

انتخابی اصلاصات ایکٹ: نون لیگ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سے ریکارڈ طلب

اسلام آباد: (14 فروری 2018) سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا فارم اور 14ویں ترمیم کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

انتخابی اصلاحات ایکٹ دو ہزار سترہ کے خلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت مسلم لیگ (ن) کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت کا اپنا سربراہ منتخب کرنے کا حق ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کا اثر محدود ہے۔ اس کا اطلاق صرف ارکان اسمبلی پر ہوتا ہے۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ کے قانونی مسودے پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔ قانون سازی میں کوئی بدنیتی شامل نہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر قانون کالعدم ہو جاتا ہے تو سینٹ الیکشن کیلئے جاری کردہ ٹکٹوں کا کیا ہوگا؟ کیا متفقہ طور پر تیار قانون آئین سے متصادم نہیں ہو سکتا؟ اگر کوئی چوری کرتے ہوئے پکڑا جائے وہ پارٹی سربراہ بن سکتا ہے؟ ہمیں ان تمام سوالوں کے جواب دیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کو کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ اصل فیصلہ تو سربراہ نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں سینیٹ الیکشن کیلئے پارٹی ٹکٹ کس نے جاری کیے؟عدالت نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا فارم طلب کرلیا ہے۔ جبکہ عدالت نے 1997ء میں منظور ہونے والی 14ویں ترمیم کا ریکارڈ بھی اٹارنی جنرل آفس میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

جائیداد ضبطگی کیس میں اسحاق ڈار کی درخواست مسترد

 

Comments are closed.

Scroll To Top