تازہ ترین
امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، عمران خان

امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، عمران خان

اسلام آباد: (30 نومبر 2018) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

اسلام آباد میں بھارتی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دو جوہری طاقتیں جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ کشمیر دونوں ممالک میں حل طلب تنازع ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے۔ دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت تعلقات متاثر ہوئے ہیں، امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ کرتار پور راہداری کا کھلنا سکھ برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا اور اب راہداری کھلنے سے سکھ برادری بہت خوش ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا مائنڈ سیٹ بدل چکا لیکن ہندوستان کا مائنڈ سیٹ نہیں بدل رہا۔ پاکستان دہشتگردیگردی کو روکنے کیلئے کوشش کررہا ہے اور ہم کسی عام گروپ کو پاکستان میں سرگرمیاں نہیں کرنے دیں گے۔عمران خان نے کہا کہ دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو ر وکنے کیلئے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگا رہے ہیں کیونکہ امریکہ کاالزام تھا کہ افغانستان میں ہم اس لیے نہیں جیت سکے کہ ادھر سے عسکریت پسند آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل آسان نہیں ہے۔ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو دونوں ممالک کیلئے ماننی مشکل ہیں لیکن میں یہ یقین کرتا ہوں کہ جب ہم مذاکرات کریں گے تو مسئلے کاحل نکل آئے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک دفعہ واجپائی سے میری میٹنگ ہوئی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ الیکشن نہ ہارتے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے سے پورے برصغیر کوفائد ہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے رہیں گے کہ مذاکرا ت سے اپنے مسائل حل کریں اور مسئلہ کشمیر کو مذاکرات سے حل کیا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین میں شامل ہونے کے بعد تمام یورپی ممالک کامعیار زندگی بلند ہوا ہے اور برصغیر میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بات چیت کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ مذاکرات کی پیشکش کے بعد بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں آیا اور ہماری دوستی کے اقدام پر بھارتی ردعمل سے افسوس ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کسی قسم کی دہشتگردی پاکستان کے مفاد میں نہیں اور امن سے بھارت کو زیادہ فائد ہ ہوگا۔ مسئلہ کشمیر حل ہونے سے پورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔حافظ سعید کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پابندی کے بعد حافظ سعید اور ان کی تنظیم پر سخت پابندیاں عائد ہیں اور دوسری شخصیت جن پر ممبئی حملوں کا الزام ہے، ان پر عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دے رکھی ہے اور اب بھارت کے جواب کا انتظار ہے کیونکہ جب مذاکرات ہی نہیں ہوں گے تو مسائل حل کیسے ہونگے؟ بھارتی حکومت بات چیت کیئے تیار ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں جب بھی انڈیا گیا اور جب بھی بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیا تو بات ماضی پر آکر اڑ جاتی ہے۔ ہمارے ماضی نے ہمیں سکھایا کیا ہے کہ خطے کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔ کبھی برصغیر دنیا کا سب سے امیر علاقہ تھا اور اب سب سے زیادہ غربت یہاں ہے۔عمران خان نے کہا کہ 1947ء میں جتنی قتل و غارت پنجاب کے بارڈر پر ہوئی تھی، شاید ہی دنیا میں کہیں ہوئی ہو۔ کرتارپور بارڈر پر 70 سال پہلے جیسی قتل و غارت ہوئی اور اب جیسی تبدیلی آئی ہے، اس سے قومیں آگے بڑھ جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھی فہرست دے دیتے ہیں کہ ہندوستان نے ظلم کیا ہے اور جب ہندوستان میں جاتے ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یکطرفہ کوشش زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ میں ماضی کا جواب نہیں دے سکتا لیکن جب ہم ایک مرتبہ معاہدہ کریں تو پھر میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں تو اپنی بات پر قائم ہوں لیکن فوج نے بات نہیں مانی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں سب ایک پیج پر ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ ہندوستان اور افغانستان سے ہمارے حالات ٹھیک ہوجائیں۔ پہلے دن کہا تھا کہ آپ ایک قدم بڑھائیں، ہم دوقدم آئے بڑھائیں گے۔ ماضی کی باتوں کو بھول کر ہی پاک بھارت تعلقات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاک بھارت عوام کے اندر مسائل نہیں، مسائل پاک بھارت حکومتوں کے اندر ہیں۔ ہم کوشش کرتے رہیں گے کہ مسائل مذاکرات سے حل ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان آگے جانا چاہتا ہے اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں جتنی میری دوستیاں تھیں اور وہاں جو پیار مجھے ملا، میں چاہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کو کسی اور طرح دیکھا جائے۔ کشمیر میں جیسا پچھلے پچیس سال سے چل رہا ہے کہ مسئلہ کو فوجی طاقت سے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کو طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ بھارتی حکومت اگر کچھ نہیں کرسکتی تو کم از کم کشمیر کے لوگوں کیلئے تو کوشش کرے۔ سوشل میڈیا پر جو آتا ہے کہ عورتیں رو رہی ہیں اور لاشیں آرہی ہیں تو ایسے میں ہم جیسے لوگ جو آگے بڑھنا چاہتے ہیں، وہ رہ جاتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ میرے اوپر اس حوالے سے پہلے بھی تنقید ہوئی ہے، اس لیے ہماری کوششوں کے جواب میں دوسری جانب سے بھی جواب آنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈالرز کی کمی کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی آئی، عمران خان

پہلے سو روز میں راستے کا تعین کردیا ہے، عمران خان

 

Comments are closed.

Scroll To Top