تازہ ترین
الیکٹرانک کرائم کے ترمیمی بل 2018ء کی پارلیمنٹ سے منظوری روکنے کا فیصلہ

الیکٹرانک کرائم کے ترمیمی بل 2018ء کی پارلیمنٹ سے منظوری روکنے کا فیصلہ

اسلام آباد: (12 اکتوبر 2018) حکومت نے توہین آمیز مواد کی روک تھام سے متعلق الیکٹرانک کرائم کے ترمیمی بل 2018ء کی پارلیمنٹ سے منظوری روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے بل واپس لینے کیلئے سینیٹ سیکریٹریٹ کو باضابطہ درخواست دے دی ہے۔

توہین آمیز مواد کی روک تھام سے متعلق الیکٹرانک کرائم بل مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں اس وقت کی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا تھا۔

سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت کابینہ نے 29 مئی 2018ء کو توہین آمیز مواد کی روک تھام سے متعلق بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دی تھی۔ یہ بل 19 ستمبر 2018ء کو سینیٹ میں پیش کیا گیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا تھا۔سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے سینیٹ سیکریٹریٹ کو بل کی واپسی کیلئے دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس بل کو پیش کرنے کی منظوری گذشتہ حکومت کی کابینہ سے حاصل کی گئی تھی۔ قانونی طور پرایوان میں بل پیش کرنے کیلئے موجودہ کابینہ کی منظوری ضروری ہے۔

شبلی فراز نے مزید کہا کہ اس بل سے کسی طور پر بھی تحریک انصاف کی حکومت کا کوئی تعلق اور سروکار نہیں ہے، اس لیے بل واپس لینے کیلئے درخواست کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سائبر و الیکٹرانک جرائم کو ایف آئی اے کے قوانین میں شامل کرنے کی منظوری

سائبر کرائم بل دوہزار سولہ سینیٹ سے منظور

 

Comments are closed.

Scroll To Top