تازہ ترین
الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو فنڈز کس قانون کے تحت دیے جارہے ہیں، چیف جسٹس

الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو فنڈز کس قانون کے تحت دیے جارہے ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد(13مارچ،2018) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ الیکشن سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو فنڈز کس قانون کے تحت دیے جارہے ہیں جبکہ عوامی پیسہ قومی خزانے میں واپس کرنے کا حکم دینگے۔

سپریم کورٹ میں اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں پر چلائے جانے والے سرکاری اشتہارات میں حکومتی کارکردگی دکھانے کی آڑ میں لیڈروں اور حکومتی عہدیداروں کی تصاویر کے ذریعے غیر محسوس انداز میں انتخابی مہم چلانےکے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی ۔

سماعت کے موقع چیف جسٹس ثاقب نثار نےآج ہی کیس کافیصلہ سنانے کاعندیا دیا۔چیف جسٹس کاکہناتھا کہ سرکاری اشتہارات کے صاف ،شفاف اجراء کے لئے گائیڈ لائن بنا نے کا مقصد عوام کے پیسے کو ضائع ہونے سے بچانا ہے ۔ اس موقع پرکے پی حکومت کی جانب سے تین ماہ کے دوران جاری سرکاری اشتہارات سے متعلق ریکارڈ عدالت میں جمع کرایاگیا۔

فاضل چیف جسٹس نے سیکرٹری کے پی اطلاعات کو کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک اور عمران خان کی تصاویر لگانا بند کردیں، اشتہارات کی مہم پر لگنے والا پیسہ قومی خزانے کا ہے.

عدالت عظمیٰ نے سیاسی شخصیات کی تصاویر والے سرکاری اشتہارات کے اجراء پر پابندی عائد کرتے ہوئے واضح کیا کہ میڈیا کے معمول کے اشتہارات کو بند نہیں کر رہے ہیں بلکہ اشتہارات کی صرف ایک کٹیگری کو بند کر رہے ہیں، سیاسی شخصیات کی تصاویر والے اشتہار بند ہوں گے۔

عدالت نے چاروں صوبائی حکومتوں ،آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے وکلاء کو سرکاری اشتہارات کے صاف ،شفاف اجراء کے لئے گائیڈ لائن پر مبنی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دوپہر تک ملتوی کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

سیاسی شخصیات کی تصویر والے اشتہارات پر پابندی عائد

ڈبوں میں ناقص دودھ  کیس: سپریم کورٹ کامقدار بڑھانےوالے انجیکشن ضبط کرنے کاحکم

Comments are closed.

Scroll To Top