تازہ ترین
اقتصادی بحران اور سی پیک۔۔۔

اقتصادی بحران اور سی پیک۔۔۔

پاکستان اپنی ابتدا سے لیکر آج تک بحرانوں اور سازشوں کا شکار رہا ہے ۔ دنیا کی پہلی نظریاتی مملکت کو زخمی کرنے والوں میں بیرونی عناصر کے ساتھ اندرونی طور پر دوست نما دشمنوں کا بھی ہاتھ رہا ہے ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد مملکت خدا داد آج کل دوسرے بڑے سنگین بحران سے گزر رہا ہے ۔ بیس کروڑ عوام آج جس بے بسی اور کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں اسکی مثال نہیں ملتی ۔ سابقہ اور موجودہ حکمران بلند و بانگ دعووں اور کاغذی اعلانات کے ذریعے عوام کو صبر وشکر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کا بھاشن دے رہے ہیں ۔ بلاشبہ صبر وشکر میں پاکستان  کے غریب و پسماندہ عوام کا کوئی دوسرا ثانی نہیں ۔ جن حالات سے آج کل پاکستانی عوام گزر رہے ہیں اگر یہ ہمارے کسی پڑوسی ملک کے عوام کو درپیش ہوتے تو وہاں کی سڑکیں عوام کی آہو بکا اور احتجاج سے گونج رہی ہوتی۔قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات اور لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد جمہوریت اور عوام کے نام پر شروع ہونے والی محلاتی سازشوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور انہی کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت دو رخت ہوئی ۔ گزشتہ پندرہ سے بیس سالوں کے دوران اقتدار کے بھوکے بھیڑیوں نے پاکستان کے مضبوط تن کو کمزور کردیا ہے ۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ملکی سالمیت اور استحکام کو خطرات محسوس ہورہے ہیں۔ اقتصادی بحران سنگین شکل اختیار کرچکا ہے، نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب ہمیں اپنا دوست منتخب کرنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ امریکا گزشتہ ساٹھ سالوں سے ہماری اقتصادیات کو درپردہ کنٹرول کررہا تھا اور اب وہ کھلم کھلا ہمارا گلا دبانے کے درپے ہے۔ اس کی نگاہ میں عوامی جمہوریہ چین سے ہماری دوستی سب سے بڑا گناہ بن گئی ہے۔ امریکا کا مطالبہ ہے کہ اگر پاکستان اقتصادی بحران سے نکلنا چاہتا ہے تو سی پیک معاہدے سے علیحدگی اختیار کرے اس سلسلے میں ہماری نئی حکومت کی طرف سے بھی ایسے اشارے ملنے شروع ہوگئے جس سے گمان ہونے لگا تھا کہ سی پیک اپنے اصل منصوبے کے مطابق نہیں رہے گا۔چین جس کے متعلق ہمارا دعویٰ ہے کہ چین پاکستان دوستی ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ اونچی اور مضبوط ہے ،اس میں کہیں دراڑ نہ پڑ جائے۔ امریکا نے بھی کھل کر پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران کو سی پیک سے جوڑنا شروع کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کے اجلاس میں چین اور پاکستان کے اقتصادی معاہدوں کو ہدف تنقید بناکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے پچاس دن سے زائد گزر چکے ہیں اور اس مدت میں وہ ملک کے حالات کو سدھارنے اور اقتصادی میدان میں کارگزاری دکھانے کے بجائے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ الزامات اور جوابی الزامات کی چومکھی لڑائی لڑنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔

جس تبدیلی کے نعرے پر تحریک انصاف نے ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کی اسکے نفاذ کا دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آرہا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران اندیکھے اور انجانے خوف کا شکار ہیں ۔ عدلیہ اور فوج کی حمایت کا دعویٰ کرنے والوں کو اپنی موجودہ کارکردگی کے کھوکھلے پن کا احساس ہر دم ستاتا رہتا ہے ۔ حکومتی ترجمان کے دعووں کو اگر صحیح تسلیم کرلیا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عوام میں بے چینی کیوں پائی جاتی ہے ۔ شاید برسراقتدار جماعت اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھی ہے کہ وہ جن محترم اور قابل قدر اداروں کی درپردہ حمایت پر تکیہ کررہی ہے اس میں پاکستان کے غریب عوام بھی ایک مضبوط فریق اور ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انکی طاقت اور حمایت کے بغیر بڑے سے بڑے سورما بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے متعلق عوام کا ایمان ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر پاکستان اور اسکے عوام کے مفادات کا سودا نہیں کرسکتی ۔ پاکستان کے ساتھ اسکی محبت لازوال ہے ،وہ اپنی تشکیل کے دن سے لیکر آج تک وطن عزیز کے دفاع کے لیے بیش بہا قربانیاں دیتی آرہی ہے ۔ ہمارے سیاستدانوں کو اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی ،اقتدار کے حصول کے لیے چور دروازے، سازش اور توڑ جوڑ کے رویے کو یکسر ترک کرکے خلوص دل سے پاکستان کی ترقی ،خوشحالی اور استحکام کے لیے کام کرنا ہوگا ۔ مہنگائی کے سونامی کو قابو کرنے کے لیے تمام سیاستدانوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا ، سابقہ حکومت کی خامیوں اور برائیوں کا دن رات ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے اپنی اچھی کارکردگی سے عوام کی عملی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی اور سابقہ حکمرانوں کی بد اعمالیوں کا احتساب عدالتوں پر چھوڑنا ہوگا۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

 

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top