تازہ ترین
اعظم سواتی اپنے عہدے سے مستعفی

اعظم سواتی اپنے عہدے سے مستعفی

اسلام آباد:(06دسمبر،2018)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے قبول کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اعظم سواتی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں اپنا استعفیٰ پیش کیا، جسے وزیراعظم نے قبول کرلیا۔

اس سے قبل آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں تاحیات نااہلی سے بچنے کے لئے سینیٹر اعظم سواتی نے وزارات سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا،ذرائع کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک وزارت سے علیحدہ رہیں گے، تاہم سپریم کورٹ کا فیصلہ حق میں آنے کی صورت میں اعظم سواتی دوبارہ قلمدان سنبھال لیں گے،بصورت دیگر وزارت سے علیحدگی کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے  آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، اس موقع پراعظم سواتی کے وکیل نے عدالت میں جواب جمع کرایا تھا۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

اعظم سواتی کا بیان پڑھنے کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچوں اور خواتین کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا گیا، انہوں نے اعظم سواتی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ حاکم ہیں، محکوم کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں ؟ بھینس دراصل آپ کے فارم ہاؤس میں داخل ہی نہیں ہوئی تھی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب آپ نے اب تک اس معاملے پر کیا کیا ؟ یہ آپ کی ایک ماہ کی کارکردگی ہے ؟ نئے آئی جی نے آتے ہی سرنگوں کر دیا ہے۔ جس پر آئی جی اسلام آباد نے کہا سر یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کوئی زیر التوا نہیں تھا، آپ کو دیکھنا تھا اس معاملے میں کیا کرنا ہے۔وکیل اعظم سواتی نے کہا کہ عدالت نے میرے موکل سے دس سوال پوچھے تھے، پہلا سوال تھا کیا آئی جی کا تبادلہ اعظم سواتی کے دباؤ پر کیا گیا، جے آئی ٹی نے کہا کہ تبادلہ پہلے ہی طے تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا فون نہ اٹھانے پر آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ کیا گیا، حکومت کو جاکر بتائیں عدالتی نظرثانی کیا ہوتی ہے ؟

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ تحریک انصاف نے اب تک اعظم سواتی کے خلاف کیا ایکشن لیا ؟ جس پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا نیب قوانین کے تحت معاملہ نہیں آتا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا پھر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت لڑائی کریں، کیا اعظم سواتی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں ؟ ان کے پیسے ہمیں ڈیم فنڈز کے لیے بھی نہیں چاہئیں۔اس موقع پر صدر سپریم کورٹ بار نے اعظم سواتی کو معاف کرنے کی درخواست کی اور کہا اعظم سواتی میرے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، جرم ہوا ہے لیکن اس پر اتنی بڑی سزا نہ دیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ارب پتی آدمی ان سے مقابلہ کر رہا ہے جو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے، ان کو سزا ملے گی تو شعور آئے گا۔

گذشتہ روز آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کو جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب داخل کرانے کے لئے آج شام تک کی مہلت دی تھی۔سماعت کے آغاز پر اعظم سواتی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب داخل کرانے کے لیے وقت دیا جائے، جس پر عدالت نےاعظم سواتی کو جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب داخل کرانے کے لیے کل تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔اس سے قبل انتیس نومبر کو سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی، پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی بیرون ملک ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوئے تھے ،سماعت کے موقع پر جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تھی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

جے آئی ٹی کی رپورٹ پانچ والیم پر مشتمل ہے جب کہ جے آئی ٹی رپورٹ کا 33 صفحات پر مشتمل خلاصہ بھی موجود ہے،رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی نے اختیارات کا غلط استعمال کیا جب کہ اعظم سواتی کے ساتھ خصوصی سلوک کیا گیا۔ اعظم سواتی نے نیاز محمد کی فیملی کے ساتھ غیر ضروری اختیارات کا استعمال کیا جب کہ اعظم سواتی کے لیے اثرو رسوخ کا بھی استعمال کیا گیا۔جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غریبوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا جب کہ اعظم سواتی کے ساتھ خصوصی سلوک اور اثرو رسوخ کا استعمال کیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ غریبوں کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے جب کہ رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی کو اسپیشل ٹریٹ کیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا چار بجے تک جواب جمع کرایا جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نئے آئی جی اسلام آباد کمرہ عدالت میں موجود ہیں ؟ وہ اس معاملے پر وہ کوئی پرچہ درج کریں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نئے آئی جی کو نوٹس نہیں گیا تھا ان کی جگہ اے آئی جی موجود ہیں۔

سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کیس میں متاثرہ خاندان کو روسٹرم پر بلا لیا۔ چیف جسٹس نے کہا آپ اور آپ کی بچیوں کے لیے ہم لڑ رہے ہیں، آپ معافی دے رہے ہیں؟اعظم سواتی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اعظم سواتی ملک سے باہر ہیں اور وہ تین دسمبر کو وطن واپس لوٹیں گے، بعد ازاں عدالت نے آئی جی تبادلہ کیس کی سماعت چار دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آئی جی تبادلہ کیس: اعظم سواتی اور ملازمین جھگڑے کے ذمہ دار قرار

آئی جی تبادلہ کیس: چیف جسٹس نے اعظم سواتی سے استعفیٰ طلب کرلیا

Comments are closed.

Scroll To Top