تازہ ترین
اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری پر پی پی رہنماؤں کا سخت ردعمل

اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری پر پی پی رہنماؤں کا سخت ردعمل

کراچی: (20 فروری 2019) نیب کے ہاتھوں اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری پر پی پی رہنماؤں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ پر قبضے کی سازش قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی گرفتاری پر بختاوربھٹو نے اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری پاکستان اور جمہوریت کی بے عزتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ پر مقدمات اور ان کا نام ای سی ایل پر ڈالنا بھی جمہوریت کی بے عزتی ہے۔

بختاور بھٹو کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی ستائیس دسمبر کی تقریر سے قبل ان کا نام ای سی ایل پر ڈالاگیا، اس کے بعد تحریک انصاف نے پریس کانفرنس میں سندھ پر قبضے کا دعویٰ کیاتھا۔

رکن قومی اسمبلی پی پی نفیسہ شاہ نے اسپیکرسندھ اسمبلی کی گرفتاری پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج درانی کیخلاف کیس ابھی محض انکوائری کے مرحلے میں ہے،اور انکوائری کے مرحلے میں گرفتاری کیسے ہوسکتی ہے، سب جانتے ہیں کہ اسپیکر اسمبلی کے کسٹوڈین اورمنتخب اراکین کے حقوق کے نگران ہیں۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آغا سراج ایک شخص نہیں اسپیکر سندھ اسمبلی ہیں انہیں ایسے کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے، سندھ کے اسپیکر کو اسلام آباد سے ہتھکڑیاں لگاکر کراچی لے جانا کیا پیغام دے گا ، اگر گرفتاری قانونی ہے تو آغا سراج کو کراچی گرفتار کرنے کے بجائے اسلام آباد سے کیوں اٹھایا گیا۔

مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت تمام صوبوں کا ہے، کسی ایک جماعت کا نہیں ، حکومت نے یہ تاثر دیا ہے کہ چھوٹے صوبہ سندھ کے نمائندے اسلام باد میں محفوظ نہیں ہیں ، تحقیقات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وفاقی وزیر دفاع کیخلاف بھی جاری ہیں، تحریک انصاف کے اِن رہنماؤں کو کیوں کوئی پوچھنے والا نہیں ، وفاقی حکومت نے ملک و قوم کو افراتفری کے سوائے کچھ نہیں دیا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top