تازہ ترین
اسلام آباد: فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا 18ویں روز بھی جاری

اسلام آباد: فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا 18ویں روز بھی جاری

اسلام آباد: (23 نومبر 2017) فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا اٹھارویں روز بھی جاری ہے۔ مذاکراتی عمل میں ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ مشتعل مظاہرین نے گزشتہ روز پولیس پرحملہ کرکے متعدد اہلکاروں کو زخمی کردیا تھا۔

ویڈیودیکھنے کےلیےپلےکابٹن دبائیں

اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعتوں کا دھرنا آج اٹھارویں روز بھی جاری ہے۔ تحریک لبیک کے سینکڑوں کارکنان فیض آباد انٹر چینج پر موجود ہیں ۔ جن کی سیکیورٹی کے لئے پولیس اور ایف سی کے ہزاروں جوان آج بھی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی جبکہ گزشتہ روز درجنوں مشتعل کارکنان نے پولیس پر حملہ بھی کیا۔ مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک ڈی ایس پی سمیت پولیس کے متعدد اہلکار زخمی ہو گئے۔ جنہیں طبی امداد کے لئے پمز اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس پر پتھراؤ اور ہلڑ بازی کرنے پر اب تک مظاہرین کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کھنہ اور آئی نائن میں انیس مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے بعد پولیس کی اضافی نفری اور واٹر کینن طلب کر لئے گئے۔ جس کے بعد صورت حال پر معمول پر آ گئی۔

دوسری جانب دھرنے کے پرامن اختتام کے لئے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ مذاکراتی عمل کے سلسلہ میں پیر حسین الدین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں فریقین کے درمیان معاہدے کے مسودے کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق دھرنا کمیٹی نے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے تک وزیر قانون زاہد حامد کو کام سے روکنے کی تجویز قبول کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فیض آباد دھرنا: حکومت اور علماء مذاکراتی ٹیم کا بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق، ذرائع

فیض آباد دھرنا سترویں روز میں داخل، تمام مذاکرات بے سود

 

Comments are closed.

Scroll To Top