تازہ ترین
اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت ساڑھے 11 بجے تک ملتوی

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت ساڑھے 11 بجے تک ملتوی

اسلام آباد: (14 فروری 2018) احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ کے خلاف دائر زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت گواہ کی عدم حاضری کے باعث ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی، جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر احتساب عدالت کے جج نے نیب پراسیکیوٹر سے گواہ پیش کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گواہ راستے میں ہیں عدالت پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا، جس پر جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کرتے ہوئے تفتیشی افسر نادر عباس کو عدالت کے رو برو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔آج کی سماعت پر ہی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی دوسری بار اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے احتساب عدالت میں پیش ہونگے۔

اس سے قبل 12 فروری کو ہونے والی سماعت میں واجد ضیا کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ 1992ء کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے مطابق کل اثاثے 9.1 ملین روپے تھے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اثاثوں کی مالیت 09-2008 میں 831.6 ملین روپے تک پہنچ گئی، اسحاق ڈارکے اثاثوں میں اسی عرصے میں 91 گنا اضافہ ہوا۔واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ جےآئی ٹی نے 10 جولائی 2017 کوحتمی رپورٹ پیش کی، اسحاق ڈارسمیت مختلف شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ آپ نے اسحاق ڈارکیس تک محدود رہنا ہے، جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جےآئی ٹی نے ایس ای سی پی، بینکوں، ایف بی آر، الیکشن کمیشن سے ریکارڈ لیا، اس موقع پر جے آئی سربراہ واجد ضیا نے اسحاق ڈارکی ویلتھ اسٹیٹمنٹ عدالت میں جمع کرا دی، ویلتھ اسٹیٹمنٹ مختلف ادوارپرمبنی ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈاراثاثوں کی دستاویزات یا ثبوت دینے میں ناکام رہے، اثاثوں پررپورٹ 10جولائی 2017 کوسپریم کورٹ میں دی، واجد ضیا نے کہا کہ اسحاق ڈاربرطانوی کمپنی میں سرمایہ کاری کی وضاحت نہ دے سکے، 2008 میں4.9 ملین برطانوی پاؤنڈ بیٹے کوقرض دیےلیکن بیٹے کا نام ظاہرنہیں کیا گیا۔

بعد ازاں عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ایک بار پھر واجد ضیا کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔نیب کے تفتیشی افسر نادر عباس طبیعت کی ناسازی کے باعث آج بھی اپنا ریکارڈ نہ کراسکے۔

اس سے قبل نیب عدالت نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ کی عدم پیشی پر کیس کی سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے کا وقعہ کردیا تھا۔

سماعت کے آغاز پر جج محمد بشیر نے استفسار کیا، ‘کیا واجد ضیاء نہیں آئے؟جس پر پراسیکیوٹر نیب نے آگاہ کیا کہ جےآئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو بلایا ہوا ہے، معزز جج نے کہا کہ آج پھر تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کروا لیں۔پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ جی بالکل آج ہی واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ کرائیں گے، کل تو بہت رش ہوگا۔جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا،جے آئی ٹی نے بھی وقت پر تحقیقات کیں، ہم سماعت میں تاخیر کریں یہ مناسب نہیں، معزز نے مزید کہا کہ کچھ دیر کا وقفہ کرتے ہیں، جس کے بعد سماعت میں ساڑھے 11 بجے تک وقفہ کر دیا گیا ہے۔

دریں اثناء اس سے قبل 08 فروری کو پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نیب عدالت میں پیش ہوئے تھے ، تاہم ریکارڈ سپریم کورٹ کے پاس ہونے کے باعث وہ اپنابیان ریکارڈ نہ کراسکے تھے، جس پر عدالت نے انہیں آج طلب کیا تھا۔

احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بعد واجد ضیا کو عدالت کے باہر صحافیوں نے گھیرے میں لیا اور ان سے آج کی سماعت سے متعلق سوالات کئے تاہم پاناما جے آئی ٹی سربراہ کسی بھی سوال کا جواب دئیے بغیر روانہ ہوگئے۔اس موقع پر سیکیورٹی عملے نے صحا فیوں کو دھکے بھی دئیے اور انہیں واجد ضیا کی گاڑی سے دور دھکیل دیا، اس سے قبل پاناما وزارت داخلہ نے احتساب عدالت میں حاضری کے پیش نظر واجد ضیا کی سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

واجد ضیا نے اسحاق ڈار کے خلاف بیان ریکارڈ کرادیا

اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد

 

Comments are closed.

Scroll To Top