تازہ ترین
اردو غزل کو آفاقی شہرت بخشنے والے احمد فراز کا آج 87واں یوم پیدائش ہے

اردو غزل کو آفاقی شہرت بخشنے والے احمد فراز کا آج 87واں یوم پیدائش ہے

اسلام آباد (12 جنوری 2018) اردو زبان اور غزل کو آفاقی شہرت بخشنے والے شاعر فرازاحمد فرازؔ کا آج 87 واں یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔ فراز کا شمار عصر حاضر کے مقبول ترین شعرا میں ہوتا ہے۔

اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھی خوابوں ميں مليں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں ملیں

احمد فراز12 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا جبکہ احمد فراز ان کا تخلص تھا۔ ان کے والد سید محمد شاہ برق کا شمار کوہائی فارسی کے ممتاز شعرا میں ہوا کرتا تھا۔ احمد فراز نے اردو، فارسی اور انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انہوں ریڈیو پاکستان سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔

ریڈیو پاکستان کے بعد احمد فراز پشاور یونیورسٹی سے بطور لیکچرار منسلک ہوگئے۔ وہ پاکستان نیشنل سینٹر پشاور کے پریذیڈنٹ ڈائریکٹر، اکادمی ادبیات پاکستان کے اولین ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’تنہا تنہا‘‘ شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے۔

ان کے دوسرے مجموعہ ’’درد آشوب‘‘ کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے ’’آدم جی ادبی ایوارڈ عطا کیا گیا۔ 1976 کو اکادمی ادبیات پاکستان کے پہلے سربراہ مقرر ہوئے۔ بعد ازاں جنرل ضیا کے دور میں انہیں مجبوراً جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

احمد فراز کے مجموعہ ہائے کلام میں ’تنہا تنہا‘، ’درد آشوب‘، ’نایافت‘، ’شب خون‘، ’مرے خواب ریزہ ریزہ‘، ’جاناں جاناں‘، ’بے آواز گلی کوچوں میں‘، ’نابینا شہر میں آئینہ‘، ’سب آوازیں میری ہیں‘، ’پس انداز موسم‘، ’بودلک‘، ’غزل بہانہ کروں‘ اور ’اے عشق جنوں پیشہ‘ کے نام شامل ہیں۔

احمد فراز کے کلام کی کلیات بھی شہر سخن آراستہ ہے کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔ انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں آدم جی ادبی انعام، کمال فن ایوارڈ، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے نام سرفہرست ہیں۔ ہلال امتیاز کا اعزاز انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں سے اختلاف کی وجہ سے واپس کردیا تھا۔

انہیں جامعہ کراچی نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی گئی تھی۔ احمد فراز 25 اگست 2008 کو اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

یہ بھی پڑھیئے

اردو ادب کے نامور مزاح نگار اور شاعر ابن انشاءکی آج 40ویں برسی

شہنشاہ اردو ادب غالب کی آج 220ویں سالگرہ

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top