تازہ ترین
اراکین پارلیمنٹ کی دہری شہریت سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

اراکین پارلیمنٹ کی دہری شہریت سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد: (10 جنوری 2019) سپریم کورٹ نے اراکین پارلیمنٹ کی دہری شہریت سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ سات جج صاحبان کا 32 صفحات پر مشتمل متفقہ فیصلہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق غیر ملکی شہریت رکھنے والا پاکستانی پارلیمان کا رکن بننے کا اہل نہیں۔ پاکستانی پارلیمنٹ کی رکنیت کیلئے غیر ملکی شہریت کو ترک کرنے کے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازم ہے۔ صرف دوہری شہریت ترک کرنے کے عمل کو شروع کرنے سے نااہلی ختم نہیں ہوسکتی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر چوہدری محمد سرور نے برطانوی شہریت ترک کرنے کے دستاویزات پیش کیے، سینیٹر چوہدری محمد سرور کی شہریت ترک کرنے دستاویزات کی تصدیق کی ضرورت ہے۔ سینیٹر نزہت صادق کی امریکی شہریت کو ترک کرنے کے دستاویزات بھی تصدیق کا تقاضا کرتے ہیں۔

فیصلے کے مطابق سینیٹر ہارون اختر خان نے 1980ء میں کینڈین شہریت لی۔ ہارون اختر خان نے مانا کہ ان کی شہریت ترک کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوا، اس لیے وہ سینیٹر بننے کے اہل نہیں۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سعدیہ عباسی نے جب سینیٹر شپ کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اس وقت وہ دوہری شہریت یافتہ تھیں، کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت سعدیہ عباسی کی امریکی شہریت کو ترک کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔ سعدیہ عباسی سینیٹر بننے کی اہلیت نہیں رکھتیں تھیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top