تازہ ترین
احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت آج بھی ہوگی

احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت آج بھی ہوگی

اسلام آباد:(10دسمبر،2018)سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کچھ دیر میں ہوگی، جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت پہنچ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کیس کی سماعت کرینگے،سات دسمبر کو ہونے والی سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن دستاویزات پر عرب امارات کے حکام کو ایم ایل اے لکھا گیا وہ سامنے نہیں ہے جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا نے کہا کہ 12 ملین درہم کی کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی ہے۔

دوران سماعت جج نے دریافت کیا کہ گلف اسٹیل کے ذمے واجب الادا رقم کیسے ادا ہوئی؟ کیا واجب الادا رقم بینک نے ادا کرنا تھی؟ کوئی بینک گارنٹی تھی؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ فرض کرلیتے ہیں واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے کوئی بینک گارنٹی تھی، جب واجد ضیا نے ادائیگی کا ذکر کیا تو گارنٹی سے متعلق معلومات نہیں تھیں۔جج نے کہا کہ معمول کی پریکٹس تو یہی ہے کہ نئے قرض کے لیے پہلا ادا کرنا پڑتا ہے۔ طارق شفیع نے بھی نئے قرض سے پہلے پرانا قرض واپس کیا ہوگا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ہم فرض کرلیتے ہیں کہ قرض تھا ہی نہیں یا واپس کر دیا تھا۔ جے آئی ٹی نے عبد اللہ آہلی کو شامل تفتیش کرنے سے گریز کیا، جے آئی ٹی نے 25 فیصد شیئرز کی فروخت کے گواہوں کا بیان نہیں لیا۔ جھوٹ بولا گیا کہ معاہدے کے گواہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران نہ تو یو اے ای وزرات خارجہ گئے نہ پاکستانی قونصل خانے، سنہ 1980 کے معاہدے کے پیچھے یو اے ای وزارت خارجہ کی مہر موجود ہے۔ جے آئی ٹی نے کہا کہ وہاں کی عدالت سے معاہدے کا ریکارڈ نہیں ملا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیا نے جھوٹ بولا کہ محمد حسین کے بچوں سے رابطے کی کوشش کی، واجد ضیا کے مطابق شہزاد حسین لندن میں رہتے ہیں لیکن پتہ نہیں مل سکا۔جج نے استفسار کیا کہ مجھے نہیں سمجھ آ رہا ان باتوں کا اس کیس سے کیا تعلق بنتا ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے 75 فیصد شیئرز کی فروخت سے متعلق تحقیقات نہیں کیں۔ ایم ایل اے کا جواب آنے کے بعد جے آئی ٹی نے کہا یہ کہانی ختم ہوگئی،خواجہ حارث نے کہا کہ گلف اسٹیل مل کی فروخت سے متعلق شکوک و شبہات کی کوشش کی گئی۔

جج نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت ہی نہیں کہ طارق شفیع میاں شریف کے بے نامی تھے۔ جے آئی ٹی بھی مانتی ہے، باقی بھی سب طارق شفیع کو بے نامی کہتے ہیں۔ کوئی ایسی چیز ریکارڈ پر نہیں کہ میاں شریف نے کہا طارق شفیع بے نامی تھے۔

یہ بھی پڑھیے

العزیزیہ ریفرنس: سابق وزیراعظم احتساب عدالت میں پیش

فلیگ شپ ریفرنس:سابق وزیراعظم باقی سوالات کے جواب دینگے

Comments are closed.

Scroll To Top