تازہ ترین
اجمل کمال اوران کاادبی جریدہ آج

اجمل کمال اوران کاادبی جریدہ آج

اجمل کمال بلاشبہ صاحب کمال ہیں۔منحنی ساجثہ اوراتنابڑاکام۔۔وہ اردوادب کے پس پردہ سپاہی ہیں۔ پس پردہ ان معنوں میں نہیں کہ انہیں کوئی جانتانہیں۔وہ بہت متحرک شخصیت ہیں۔پاکستان اوربھارت ہی نہیں جہاں جہاں اردوبولی اورسمجھی جاتی ہے۔ وہاں انکی پہچان ہے۔وہ ادبی تقریبات کا بھی نمایاں حصہ ہوتے ہیں۔پس پردہ اس اعتبارسے کہاکہ وہ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی امیدکی مصداق چپ چاپ ایک گوشے میں اپناکام کئے جارہے ہیں۔نہ کوئی شورنہ دعویٰ اورنہ کسی ادبی گروہ بندی میں شامل ہیں۔Image result for Ajmal Kamal
اجمل کمال نے اسی کی دہائی کے آخر میں ادبی انتخاب پرمبنی کتابی سلسلہ شروع کیا۔جسے انیس سونواسی میں ’’آج‘‘ کے نام سے باقاعدہ سہ ماہی ادبی کتابی سلسلہ کی شکل دیدی گئی۔آج اردو کامنفرد جریدہ ہے۔جس کے ذریعے اجمل کمال نے دنیابھرکے ادب سے اردوقارئین کو متعارف کرایا۔یہی وہ خدمت جسے اجمل کمال ستائیس سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔آج میں ابتدا ہی سے کوئی اشتہارشائع نہیں کیا جاتا۔روایتی شاعری کی بھی اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ لیکن جدید شاعری کے کئی بڑے نام ثروت حسین،افضال احمدسید،فرخ یار،قاسم یعقوب،ذی شان ساحل،تنویرانجم اورسعید احمد کی تخلیقات اسی پرچے کے ذریعے ادب کے قارئین تک پہنچیں۔ہندی اوردیگرزبانوں کے جدیداور منفرد شعرا کاکلام کوبھی آج میں جگہ دی گئی۔ اجمل کمال نے بارہ ہندوستانی شاعروں پرمضامین تحریرکئے اورانہیں کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔ بیداربخت کے قلم سے منفردانداز کے خاکے لغزش رفتارخامہ میں ہم عصرشاعروں کابیان ہے۔Image result for Ajmal Kamalآج اس اعتبار سے منفرد جریدہ ہے کہ اس میں لاطینی امریکا،فرنچ،جرمن،افریقی،چیک،اسکیڈے نیوین ممالک غرض دنیابھرکے ادب کے تراجم شائع کئے گئے۔یہ اتنابڑا کام ہے ۔جسے کوئی اوراجمل کمال کی طرح نہیں کرسکا۔اردوقاری کی نوبل انعام یافتہ گابرئیل گارشیا مارکیز ، پائلو کوئلو،جوزف کونریڈ،اتالیوکلوینو،خولیولیامازاریس ،ڈیل رمپل ،لیسنگ،ریشاردکاپوشنسکی اورحان پامک جیسے عظیم عالمی ادیبوں سے بھرپوراورمکمل شناسائی آج ہی کے ذریعے ہوئی۔فارسی اورعربی ادب کے بڑے ناموں صادق ہدایت،میرال طحاوی،یوسف العقیداورہوشنگ گلیشری جیسے نامور لکھاریوں کوبھی ہم نے آج ہی میں پڑھا۔ہندی کے وبھوتی نرائن رائے،اوم پرکاش والمیکی،بھیشم ساہنی اورنرمل ورما سے بھی آج ہی نے اردوقاری کوروشناس کرایا۔ملیالم،تامل،کنٹر،بنگالی اوربھارت کی دیگرزبانوں کا ادب بھی پڑھنے کوملا۔ بھارت کے بے مثال ادیب ویکوم محمدبشیر سے اسی پرچے نے متعارف کرایا۔Image result for ajmal kamal picsآج نے ہندی ،ایرانی اورعربی ادب کے بارے میں کئی خصوصی نمبر بھی شائع کئے ۔جن سے ان زبانوں کے کئی ادیب پہلی باراردوقاری کے سامنے آئے۔نرمل ورما،ویکوم محمدبشیراورگابرئیل گارشیامارکیزپربھی خصوصی نمبرشائع ہوئے۔یہی نہیں پاکستان اوربھارت کے کئی نامور لکھاریوں کوبھی آج میں نمایاں مقام دیاگیا۔جن میں اسد محمدخان،بھارت کے بے مثال تخلیق کارنیرمسعودسید محمداشرف ،حسن منظر،سکینہ جلوانہ ،محمدخالد اختر،عاصم بٹ،ذکیہ مشہدی،ابرارمجیب،اکرام اللہ،ذکی نقوی،جیم عباسی،سیدکاشف رضا اورصدیق عالم کی اہم تخلیقات آج ہی میں شائع ہوئیں۔محمدخالداخترکے ادب کے تجزیاتی مضامین پرمبنی منفرد خصوصی شمارہ بھی ہمیشہ یادرکھاجائے گا۔خالدطورجیسے گمنام مصنف کوآج کی گوشہ گمنامی سے نکال کرقارئین کے سامنے لایا۔نامورشاعرہ فہمیدہ ریاض کی نثری تخلیقات ابتدا میں آج ہی ذریعے منظرعام پرآئیں۔ان کاناولٹ گوداوری اورمشہورافسانے آج میں ہی چھپے۔محمدعمرمیمن، ارجمندآرا،زیباعلوی،منیرہ سورتی کوسووو کے بارے میں آج کاخاص نمبربھی یادگارشماروں میں شامل ہے۔جس میں سربیااورکوسوووکے مسائل اوروہاں کاادب ہمارے سامنے آیا۔بھارتی تھیٹرکے حبیب تنویر سابق بھارتی وزیراعظم کے بھائی ستیش گجرال ،پاکستان کے علی احمدخان اوراکرام اللہ کے علاوہ دیگرزبانوں کے نامورادباء اورشعراء کی آپ بیتیاں ،ہرشمارے میں کسی بھی زبان کاایک یا دوناول یاناولٹ غرض آج میں کیانہیں ہے۔Image result for ajmal kamal Books
کراچی کے بارے میں آج نے دوجلدوں پر مبنی ضخیم خاص شمارے ہمیشہ باقی رہنے والا کام ہے۔ دس سال پہلے چھپنے والے ان شماروں کی مانگ کبھی ختم نہیں ہوئی۔کراچی کی تاریخ، اس میں رہنے بسنے والے گوناگوں اقوام اورافراد کی معلومات،اس کے محسنین ،میئر،اس کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے غرض کراچی سے متعلق تمام معلومات ان دوشماروں میں یکجاکردی گئی ہے۔جومستقبل میں بھی اس شہر پرکام کرنے والوں کیلئے مفید ثابت ہوگی۔

Image result for ajmal kamal
ستائیس سال سے باقاعدہ شائع ہونے والے آج نے سنچری مکمل کرلی ہے۔ پاکستان کی سترویں سالگرہ کے موقع پراجمل کمال نے ہندی مصنف یش پال کے ناول ’’جھوٹاسچ‘‘ کو آج کے تین مشترکہ شماروں کی شکل میں شائع کیاہے۔قومی تاریخ کے اہم موڑ پرسنچری نمبر کے اس گیارہ سوصفحات سے زیادہ کے ضخیم ناول کاموضوع تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات اوراس کے نتیجے میں کثیرتعداد میں آبادی کی منتقلی اور ہجرت کرنے والوں کو نئی سرزمین پرپیش آنے والی مشکلات ہیں۔تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات میں کم وبیش آٹھ لاکھ افراد اور ایک کروڑ سے زیادہ بے گھرہوئے۔ناول کا محل وقوع تقسیم سے پہلے لاہورہے۔جس میں اس دورکا سماجی اورثقافتی رہن سہن بخوبی واضح کیاگیاہے۔ ناول میں چالیس کی دہائی سے شروع ہوکرتقسیم سے گزرتے ہوئے،اپنے وطن سے اکھڑ کرنئے دیس میں بسنے والوں کی کہانی بیان کی گئی ہے۔کردارنگاری اورحقیقت نگاری بے مثال ہے۔اورملک کی سترویں سالگرہ پرآج کا یہ سنچری نمبرایک بے مثال تحفہ ہے۔ اجمل کمال اوران کے آج کاسفراسی طرح جاری رہے۔اوروہ قارئین کواسی طرح عالمی ادب سے متعارف کراتے رہیں۔

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی

عمراکمل پاکستان کرکٹ کابگڑا بچہ

Comments are closed.

Scroll To Top