تازہ ترین
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت

موجودہ حکومت کے اقتدار کے سو دن پورا ہونے میں صرف چند دن رہ گئے ہیں نئے پاکستان کے بانی عمران خان اس مدت کے دوران سو سے زیادہ یوٹرن لیکر پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کرچکے ہیں ۔ اب تو ان کے خوشہ چین جن میں نامی گرامی کالم نگار ٹی وی تجزیہ کار اور لفافہ جرنلزم کے ماہر شامل ہیں کھلے الفاظ میں اپنے کپتان کے یوٹرن کو منافقت اور حماقت قرار دینے لگے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی خیال ظاہر کرتے ہیں کہ اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کمزور ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ محترمہ علیمہ کی کروڑوں روپے مالیت کی دبئی میں جائیداد ہے ،اس ناجائز پراپرٹی کو عمران خان کی حکومت نے معمولی جرمانہ عائد کرکے چھوڑ دیا۔اس معاملے پر نیب نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ،اس پراسرار خاموشی پر عوام حیران ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ کس قسم کا احتساب بیورو ہے جو حکومت مخالف رہنماوں کی غیر قانونی جائیدادوں پر انکو ہتھکڑیاں لگاکر عدالتوں میں پیش کرکے رسوا کررہی ہے جبکہ دوسری طرف اعظم سواتی،علیم خان،پرویز الہی،جہانگیر ترین اور پرویز خٹک جیسے سیاستدان بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے باوجود آزاد گھوم رہے ہیں ۔ انتہائی حیران کن بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں علیمہ خان کے قانونی ذرائع آمدنی کا کسی کو بھی علم نہیں ہے ،کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ دبئی میں قیمتی جائیداد خریدنے کے لیے رقم دبئی کیسے پہنچی اور کہاں سے آئی ؟ موجودہ حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اندر بار بار اپوزیشن کے رویے کو انتہائی نامناسب اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اپنے اس عزم کا اعادہ کرتی رہتی ہے کہ وہ چوروں اور لٹیروں کو معاف نہیں کرے گی اور کسی بھی صورت میں این آر او نہیں دے گی جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ عمران خان یا انکی حکومت سے این آر او کون مانگ رہا ہے ۔ عمران  خان نے این آر او کے دروازے اپنے رشتے داروں اور حلیف جماعتوں کے کرپٹ افراد کے لیے کھول رکھے ہیں ۔ ایک طرف اپوزیشن کو این آر او نہ دینے کی گردان جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن این آر او مانگنے والوں کے نام بتانے کا اصرار کررہی ہے لیکن اس مطالبے پر حکومت کو سانپ سونگھ گیا ہے ۔ عمران خان نے اپنے تمام غیر ملکی دوروں میں پاکستان میں پائے جانے والے کرپشن کا رونا رویا ہے اور وہاں پر بھی بار بار یہ اعلان کرتے رہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر کرپٹ سیاستدانوں کو نہیں چھوڑیں گے جب وہ یہ بات کرتے ہیں تو اپوزیشن جمہوریت کو خطرے کا راگ الاپنا شروع کردیتی ہے ۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کے اپوزیشن میری حکومت کو گرانے کی سازش کررہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن واضح طور پر یہ کہہ چکی ہے کہ وہ موجودہ حکومت گرانے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں رکھتی پھر عمران خان آخر نامعلوم خوف میں کیوں مبتلا ہیں ۔ حکومت کو اگر خطرہ ہے تو تحریک انصاف کی نااہلی اور میرٹ کی مسلسل خلاف ورزیوں سے ۔ عمران خان خود اعتراف کرچکے ہیں کہ ملک کی بیوروکریسی انکے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہے ، انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بیورو کریسی کی کارکردگی نیب کی خلاف معمول سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ملک کے اعلیٰ ترین بیوروکریٹس نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف نا صرف احتجاج بلکہ اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا بھی شروع کردیا ہے ۔ پاکپتن کے ڈی پی او سے شروع ہونے والی انتقامی و سیاسی تنزلی و تبدلیوں کا سلسلہ  جاری  ہے ۔ حالیہ واقعہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کا ہے جس کو پاکپتن واقعے کے مرکزی کردار احسن گجر کی وجہ عتاب کا شکار ہونا پڑا ہے ۔ کے پی کے کی پولیس کی اعلیٰ کارکردگی کے دعووں کی قلعی بھی کھل رہی ہے ۔ پنجاب پولیس کو کے پی کی طرح سیاست سے پاک کرنے کے اعلانات بھی فضا میں تحلیل ہوچکے ہیں ۔ اب تک پنجاب کے تین انسکپٹر جنرل پولیس ،ایک ڈی پی او اور تین سے زائد ڈپٹی کمشنر سیاست کی نظر ہوچکے ہیں ۔ تحریک انصاف کے مشہور سینیٹر اعظم سواتی کے ہاتھوں غریب پڑوسی کے معصوم بیوی بچوں کی گرفتاری اور ان پر ہونے والا تشدد پی ٹی آئی کے انصاف کے بول بالا کے وعدوں کا منہ چڑا رہا ہے ۔ اعظم سواتی کو عدالت کی جے آئی ٹی نے قبضہ مافیا قرار دیا ہے اس کے باوجود حکومت اور نیب دونوں مہر بہ لب ہیں ۔ عمران خان اپوزیشن کو یہ دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ ابھی انہوں نے انکے خلاف کچھ نہیں کیا جب کریں گے تو اپوزیشن کی چیخیں نکل جائیں گی ۔ یقینا اپوزیشن ایسے احتساب پر شور مچائے گی جو جانداری پر مبنی ہوگا ۔ کے پی کے میں انکی صوبائی حکومت نے احتساب کمیشن کو ختم کردیا اب نہ احتساب کا بانس ہوگا اور نہ احتساب کی بانسری بجے گی ۔ سو دن کے دوران حکومت نے معاشرے کو کرپشن سے کس حد تک پاک کیا اس کا بھی فیصلہ جلد ہوجائے گا ۔کرپٹ معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے غریب عوام کی مہنگائی و بے روزگاری پر آہ و بکا سے پورا پاکستان گونج رہا ہے اور اس پر زخموں پر یہ کہہ کر مرچیں چھڑکی جارہی ہیں کہ ابھی مذید مشکل وقت آنے والا ہے ۔ فیض آباد دھرنے کے ذمے دار عناصر کے آگے حکومت کی پسپائی کی مثال پاکستان  کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ دھرنے والوں نے پاکستان کے تین مقتدر اداروں کو اپنی لاف زنی کا شکار بنایا ، حکومت نے یہ کہہ کر معاملے کو ختم کردیا کہ دھرنے کے ذمے داروں نے اپنی بد زبانی پر معذرت کرلی ہے جبکہ تحریک لبیک کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی سے کوئی معذرت نہیں کی بلکہ دھمکی دی ہے کہ ان سے کیے گئے وعدوں پر جلد عمل نا کیا گیا تو وہ ایک بار پھر ملک بھر میں دھرنے شروع کردیں گے ۔

سینئر صحافی علی اختر رضوی نے 1960 سے صحافت کا عملی آغاز کیا۔ آج کل وہ اب تک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایڈوائزر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top