تازہ ترین
اب تک کے شہید صحافی شان ڈہر کی چوتھی برسی آج منائی گئی

اب تک کے شہید صحافی شان ڈہر کی چوتھی برسی آج منائی گئی

لاڑکانہ: (یکم جنوری 2018) اب تک کے شہید صحافی شان ڈہر کی چوتھی برسی ان کے آبائی شہر باڈھ میں منائی گئی۔ برسی میں شان ڈہر کی بہن فوزیہ ڈہر، بیٹیاں عالیہ ڈہر اور عانیہ ڈہر بھی شریک ہوئیں۔

اب تک کے شہید صحافی شان ڈہر کی چوتھی برسی میں لاڑکانہ پریس کلب کے جنرل سیکریٹری ظفر ابڑو، ڈاکٹر بدر شیخ، جاوید سولنگی، ایاز ساریو، مشتاق تنیو، سلامت ابڑو، نوید لاڑک، باڈھ پریس کلب کے صدر نظام کولاچی، ڈوکری پریس کلب کے صدر محمد رمضان، نصیرآباد پریس کلب کے صدر اللہ بخش قریشی سمیت لاڑکانہ، باڈھ، نصیر آباد، ڈوکری و دیگر شہروں کے صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھے۔برسی کی تقریب میں شان ڈہر کو انصاف دلوانے کیلئے ڈویژن بھر کے پریس کلبز میں ہر ماہ اجتجاج کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔اس موقع پر اب تک سے بات کرتے ہوئے شان ڈہر کی بہن فوزیہ ڈہر نے کہا کہ شان ڈہر کے کیس کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مجھے صرف شان ڈہر کے قاتلوں کو واضح کر کے دیا جائے یا قاتل میرے سامنے آکر اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ بصورت دیگر میں کسی صورت قاتلوں کو معاف نہیں کروں گی۔ سندھ حکومت نے بھی شان کی بیٹیوں کو جو تعلیم اور مراعات دینے کا اعلان کیا تھا وہ بھی اعلانات تک ہی محدود رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے ہاتھ لمبے سنتے تھے لیکن کٹے ہوئے ہوئے خود دیکھے ہیں۔ بھائی کے قاتلوں کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔شان ڈہر کی بیٹیوں عالیہ اور عانیہ نے کہا کہ 4 سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ہمارے والد کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاسکا۔ ہم اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ہمارے والد کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ہمیں تحفظ دیا جائے۔شان ڈہر کے بہنوئی ریاض خشک، ظفر ابڑو لاڑکانہ پریس کلب کے جنرل سیکریٹری، نظام کولاچی صدر باڈھ پریس کلب، اللہ بخش قریشی صدر نصیرآباد پریس کلب، نوید لاڑک، ڈاکٹر بدر ابڑو سمیت دیگر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ قتل ہونے والوں کی برسیاں تو منائی جاتی ہیں مگر قاتلوں کو گرفتار یا مقتولین کے ورثاء کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔ سندھ حکومت کی جانب سے بھی صرف اعلانات قابلِ افسوس ہیں۔انہوں نے حکومت مطالبہ کیا کہ شان ڈہر کے قاتلوں کو گرفتار کر کے ان کے اہلخانہ کو انصاف دلایا جائے اور اپنے وعدوں کے مطابق شان ڈہر کی بیٹیوں کو مفت اعلیٰ تعلیم کا اہتمام اور انہیں دیگر مراعات دی جائیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top