تازہ ترین
اب تک پول: عوام کی واضح اکثریت چائنیز کو سرکاری زبان ماننے سے انکاری

اب تک پول: عوام کی واضح اکثریت چائنیز کو سرکاری زبان ماننے سے انکاری

ویب ڈیسک (20 فروری 2018) گذشتہ روز سینیٹ نے چینی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے حق میں ایک قرارداد پاس کی، لیکن عوام کی واضح اکثریت اس اقدام کی مخالفت کرتی نظر آئی ہے۔

اب تک پول میں عوام سے سوال کیا گیا تھا کہ ’’سینیٹ میں چینی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے حوالے سے آج ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔ کیا آپ چینی زبان کو ملک کی سرکاری زبان قرار دینے کے حق میں ہیں؟‘‘

اس سوال کے جواب میں 85 فیصد ٹوئٹر صارفین اور 81 فیصد فیس بک صارفین نے نفی میں جواب دیا۔ البتہ 19 فیصد فیس بک صارفین اور 15 فیصد ٹوئٹر صارفین ایوان بالا کی منظور شدہ قرارداد سے متفق نظر آئے۔

اب تک کے سوال پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایک فیس بک صارف نے لکھا کہ نئی ایسٹ اینڈ کمپنی آرہی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’’کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا‘’ طارق عزیز آفریدی نے لکھا کہ چین ہمارا دوست ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنا وطن لیز پر دے دیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سینیٹ نے چینی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کی قرارداد منظور کی تھی۔ قراردار سینیٹر خالدہ پروین نے پیش کی تھی جسے منظور کرلیا گیا۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبایے

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں یہ اقدام ضروری ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بھی چینی زبان کو لازمی قرار دیا جائے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ علاقائی زبانوں کو لازمی قرار نہیں دیا جارہا تو چینی زبان کو کیسے لازمی قرار دیا جائے؟ ایسا کرنا علاقائی زبانوں سے زیادتی ہوگی۔

قرارداد کے حق میں 14 اور مخالفت میں 9 ووٹ ڈالے گئے تھے تاہم اسے منظور کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

چینی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کی قرارداد منظور

پنجاب حکومت کا چینی زبان کی تعلیم کیلئے طلبہ و طالبات کو بیجنگ بھیجنے کا فیصلہ

Comments are closed.

Scroll To Top