تازہ ترین
اب تک پول: عوام زینب کے قاتل کو ملنے والی سزا سے مطمئن

اب تک پول: عوام زینب کے قاتل کو ملنے والی سزا سے مطمئن

ویب ڈیسک (19 فروری 2018) قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی ننھی زینب کے قاتل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 4 بار موت کی سزا سنائی ہے، اب تک پول میں 73 فیصد سوشل میڈیا صارفین نے اس عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کردیا۔

اب تک پول میں سوال کیا گیا کہ آپ زینب کے قاتل کو ملنے والی سزا سے مطمئن ہیں؟ جس کے جواب میں 73 فیصد سوشل میڈیا صارفین نے ہاں کہا جبکہ 27 فیصد صارفین نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی ننھی زینب کیس میں گرفتار ملزم عمران کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 4 بار موت کی سزا سنائی تھی۔

سزائے موت کا فیصلہ کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگردی کے جج محمد سجاد خان نے سنایا۔ اس موقع پر ننھی زینب کے والد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے ملزم عمران کو زینب کو اغوا کرنے، زیادتی کرنے اور قتل کرنے پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

دفعہ 780 کے تحت بدفعلی پر سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ ملزم عمران نے عدالت کے رو برو جرم کا اعتراف کرکے اپنے دفاع کے لئے کسی بھی قسم کا ثبوت پیش کرنے سے انکار کردیا تھا۔

بارہ فروری کو ملزم پر فرد جرم عائد کی گئی جس پر ملزم کمرہ عدالت میں روتا رہا۔ ملزم عمران نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ننھی بچیوں پر بہت ظلم کیا میں معافی کے لائق بھی نہیں، مجھے جتنی سزا دی جائے اتنی ہی کم ہے، کسی قسم کی قانونی مدد نہیں چاہیے۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے کہا کہ تمام اداروں کی کاوش اور سخت محنت سے درندے کو نشان عبرت بنا دیا گیا ہے۔ پوری قوم اس بات پر مضطرب تھی کہ اس سیریل کلر کے حوالے سے کوئی براہ راست شہادت نہیں مل رہی تھی لیکن فرانزک ایجنسی اور تفتیشی ٹیم نے پنجاب حکومت کی ہدایت پر سخت محنت کی جبکہ پراسیکیوشن نے پہلی بار اس پر تاریخ کا تیز ترین ٹرائل کیا۔

اب ہم دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوگئے ہیں کہ سائنسی شہادتوں کی بنا پر بھی مجرموں کو سزا دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرم عمران کو فیئر ٹرائل کا پورا موقع فراہم کیا گیا ، فرد جرم عائد ہونے کے بعد اس نے نہ صرف زینب بلکہ تمام بچیوں کے ساتھ کیے جانے والے جرائم تفصیل کے ساتھ بیان کیے۔

اعترافی بیان کے باوجود میں نے عدالت سے درخواست کی کہ اعتراف جرم کے بیان کے باوجود اسے فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے۔پہلے دن اسے چالیس منٹ تک سنا گیا اور اسے بتایا گیا کہ اس کا بیان اس کے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے۔

چالان عدالت میں جمع ہوتے ہی اس سے وکیل کا پوچھا، پہلے دن ہی عدالت نے سرکاری خرچ پر اس کا وکیل مقرر کردیا تھا۔اس نے جج صاحب کے سامنے کہا کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ یہ قبیح فعل میں نے ہی کیا ہے اعتراف جرم کے باوجود مجرم کو شہادتوں کی بنا پر سزا سنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجرم کے پاس اپیل کیلئے 15 روز ہیں، یہ جیلر کے ذریعے ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ اور صدر کے پاس رحم کی اپیل کرسکتا ہے۔کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے مقتولہ زینب کی والدین نے ملزم کی سر عام پھانسی کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

زینب کے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے کیلئے درخواست دائر

Comments are closed.

Scroll To Top