تازہ ترین
ابتک ٹی وی پروگرام خفیہ: اسٹنٹ کمشنر ایسٹ کا پیزا میکس کا سرپرائز وزٹ

ابتک ٹی وی پروگرام خفیہ: اسٹنٹ کمشنر ایسٹ کا پیزا میکس کا سرپرائز وزٹ

اب تک ٹی وی کے مشہور پروگرام خفیہ کی ٹیم نے ہمیشہ عوامی مسائل کی نشاندہی کی ہے اور متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے آگاہی بھی دی ہے۔ اس سے قبل نشر ہونے والے خفیہ کے پروگراموں کے ذریعہ قومی اور بین الاقوامی فوڈ چینز کے بارے میں آگاہی دی جا چکی ہے جس میں بڑے برانڈز بھی شامل ہیں۔ خفیہ کی کاوشوں سے ان کی خامیوں اور کوتاہیوں کے حوالے سے ان پر جرمانے بھی ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے معیار میں بہتری بھی آئی جس پر خفیہ کی ٹیم فخر محسوس کرتی ہے ۔ یہ صرف خفیہ کی ٹیم ہی ہے جس نے ان بین الاقوامی فوڈ چینز کی خامیوں سے پردہ اٹھایا ورنہ کوئی دوسرا اینکر تو اس کا سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان کو بے نقاب کرے۔

آج کا پروگرام بھی خفیہ اپنی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے شہر کی مشہور چین پیزا میکس پر کر رہا ہے ہم اس میں دیکھیں گے کہ وہ صحت و صفائی اور جو اجزا وہ پیزا بنانے میں استعمال کرتے ہیں وہ کتنے معیاری ہیں اور وہ عوام کے جان ، مال اور صحت کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔

ہم یہاں یہ بتاتے چلیں کہ خفیہ کی ٹیم نے پیزا میکس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی شکایات کے بعد جو خاص طور سے طارق روڈ کی برانچ کے حوالے سے کی جا رہیں تھیں۔پیزا میکس میں جانےسے قبل خفیہ کی ٹیم نے اپنے ذرائع سے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ وہاں صحت وصفائی اور حفضان صحت کے اصولوں کو کتنا مقدم رکھا جاتا ہے کیونکہ خفیہ کی ٹیم بغیر کسی تحقیق کے کسی شکایت پر کام نہیں کرتی۔ اس کے لیئے وہاں موجود ایک ملازم کو اس حوالے سے معلومات فراہم کرنے کے لیئے رضامند کیا کہ وہ وہاں کی اندرونی تصاویراور ویڈیوز بنا کر دے۔

اس ملازم کی دی ہو ئی تصاویر اور ویڈیوز نے خفیہ کی ٹیم کوپریشان کر دیا ٹوٹا فرش ، کیچڑ ، بوسیدہ کولڈ ڈرنک مشین، پانی کا اسٹوریج کا پلاسٹک کا ٹینک اور پیزا بنانے والے کالے پین نے پیزا میکس کی صفائی کا پول کھول کر رکھ دیا۔پیزا میکس کے کچن میں داخل ہوتے ہیں ایسا لگا کہ دوسری دنیا میں آ گئے ہوں ڈائنگ ہال کا ماحول خوشگوار اور صاف ستھرا جبکہ کچن میں داخل ہوتے ہی اس کے گندا ہونے کا احساس ہوا۔

اسٹنٹ کمشنر نے بھی اس تبدیلی کو محسوس کیا اور کہا کہ جہاں پیزا بنایا جاتا ہے وہ کتنا گندا ہے۔ محمد علی صاحب نے وہاں موجود پیزا میکس کے ملازم سے سوال کیا کہ کیا اس کی مدت ملازت کتنی ہے اور کبھی اس کی ویکسینیشن ہوئی ہے جس پر ملازم کا کہنا تھا کہ وہ یہاں ڈھائی سال سے ملازمت کر رہا ہے اور اس کی کبھی کوئی ویکسینیشن نہیں ہوئی۔

اسٹنٹ کمشنر نے ملازم سے سوال کیا کہ کچن میں کاکروچ اور دیگرحشرات الارض جوکھانے کے سامان کی وجہ سے ہو جاتے ہیں اس سے حفاظت کا کیا انتظام کیا جاتا ہے جس پر ملازم نے جواب دیا کہ پندرہ دن قبل یہاں فیومیگیشن ہوا ہے۔

محمد علی صاحب نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ جہاں پیزا بن رہا ہے وہاں ساتھ میں ہی کچرہ دان بھی رکھا ہوا ہے۔ خفیہ کی ٹیم نے پیزا بنانے والے پین کی طرف بھی توجہ دلائی جو کثرت استعمال سے سیاہ ہو گئے تھے اور ان کو تبدیل تک نہیں کیا گیا تھا جبکہ ان پین کی نشاندہی بھی کی جو صاف تھے۔پیزا میکس کے کچن کی جانچ پڑتال کے دوران اسٹنٹ کمشنر اور خفیہ کی ٹیم کو رکھی ہوئی سبزیوں کے درمیان سڑے ہوئے آلوؤں کی تھیلی بھی ملی جس سے شدید بو اٹھ رہی تھی جس کو اسٹنٹ کمشنر نے کچرے میں پھنکوا دیا کچن میں چکن کو زمین پر رکھا گیا تھا جب ملازم سے دریافت کیا گیا تو اس نے بتایا کہ دھونے کے لیئے رکھی گئی ہے۔ سامان کی جانچ پڑتال کے دوران علم ہوا موزیلا اور چیڈر چیز امپورٹیڈ استعمال کی جا رہی تھی جس کی پیکنگ پر حلال ہونے کا کوئی سرٹیفکیشن موجود نہیں تھا۔

گیس سلینڈر انتہائی غیر محفوظ طریقہ سے رکھا ہوا تھا جس سے اس بات کا اندیشہ موجود تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں اس کے پھٹنے کا امکانات بہت زیادہ ہیں جس سے پوری عمارت بھی تباہ ہو سکتی ہے۔ بجلی کی وائرنگ بھی جگہ جگہ سے کھلی ہوئی تھی جس سے شارٹ سرکٹ باعث آگ لگنے کا خطرہ بھی تھا۔پیزا میکس کی انتظامیہ نے ویکسین کے حوالے سے کہا کہ تمام ملازمین کی ویکسینیشن کروائی جا چکی ہے جس پر اسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ آپ کا ملازم بتا چکا ہے کہ اس کی ویکسینیشن نہیں ہوئی اور وہ عرصہ سے یہاں پر کام کر رہا ہے۔

پیزا میکس کے منیجر کا کہنا تھا کہ تمام اسٹاف کا ویکسینیشن اورایمرجینسی ٹریننگ کا ڈیٹا پیزا میکس کے ہیڈ آفس میں موجود ہے جس پر محمد علی صاحب نے کہا کہ اسٹاف کو بلا لیجئےجن کو ٹریننگ دی گئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر صاحب نے کھلے سلنڈر، اوپن وائرنگ اور جلے ہوئے سوئچز کو انسانی جانوں کے لیئے شدید خطرہ قرار دیا۔ خفیہ کی ٹیم نے اسٹنٹ کمشنر کی توجہ ایک ایسے ملازم کی جانب مبذول کرائی جو کھلے ہاتھوں سے کھانے کی پلیٹوں پر کام کر رہا تھا جبکہ اس کے ناخن بھی بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ پیزا میکس کی انتظامیہ نے اس کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈسپیچر ہے اور وہ سامان کی ترسیل پر مامور ہے اور جو سامان ختم ہو جاتا ہے اس کو لاتا ہے جس سے اسٹنٹ کمشنر مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جو ملازمین آپ کے پاس کام کر رہے ہیں وہ آپ کی ذمہ داری ہیں اور ان کو صاف ہونا چاہیئے۔اسٹنٹ کمشنر محمد علی نے پیزا میکس کے منیجر سے کہا کہ ہم اس لیئے آئے ہیں کہ آپ کو یہ چیزیں دکھا سکیں اور آپ کی رہنمائی کریں نہ کہ تنقید کریں۔

انتظامیہ نے بتایا کہ کولڈ ڈرنک مشین کی ابھی تنصیب ہوئی ہے اور یہاں صفائی ہو رہی ہے جس پر اسٹنٹ کمشنر صاحب نے پانی کے ٹینک کا ڈھکن دکھایا جس کا پینٹ اکھڑا ہوا تھا زنگ بھی لگا ہوا تھا ساتھ ساتھ  اس پرگرد بھی جمی ہوئی تھی جس پر محمد علی صاحب نے پیزا میکس کی انتظامیہ کی توجہ اس کی جانب بھی مبذول کروائی۔

اسسٹنٹ کمشنر نے اپنے مدد کے لیئے فوڈ ایکسپرٹ جو پی ایچ ڈی اور حلال فوڈ ایکسپرٹ جو فوڈ ٹیکنالوجسٹ اور مفتی بھی ہیں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ ہم اپنے پڑھنے والوں کو حلال سرٹفیکیشن ضروری ہونے کی وجہ بھی بتاتے چلیں کہ چیز کے لیئے رینٹ چاہیئے ہوتا ہے یہ جانوروں کے معدوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور وہ جانور حلال ہونا چاہیئے۔ اس لیئے مسلمان ممالک میں حلال سرٹائیفائید چیز استعمال کی جاتی ہے۔ اگر چیز مشکوک ہو گئی تو پیزا بھی مشکوک ہو جائے گا۔

فوڈ ایکسپرٹ اور حلال ایکسپرٹس نے وہاں کئی مسائل کی نشاندہی بھی کی جس میں خاص طور پر پانی کی پلاسٹک کی کھلی ہوئی ٹنکی اور کچن میں رکھا ہوا سلنڈر جس سے آگ لگنے کے امکانات تھے۔خفیہ کی ٹیم نے وہاں موجود اسٹاف سے اپنی رپورٹنگ کے حوالے سے وہاں موجود انتظامیہ کے افراد سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کسی کو تنگ کیا یا ان کو پریشان کیا یا کوئی ایسی بات کی جس سے ان پریشانی ہو جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کے آنے سے ہمیں سیکھنے کا موقع ملا ہے اور یقین دلایا کہ نشاندہی کی ہوئی خرابیوں کو دور کر دیا جائے گا۔

وہاں موجود انتظامیہ میں سے ایک صاحب نے بتایا کہ وہ لندن سے فوڈ ٹیکنالوجی میں فارغ التحصیل ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر نے سوال کیا کہ کیا یہ سب وہاں ہو سکتا تھا جس پر انہوں نے قبول کیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔

اسٹنٹ کمشنر محمد علی صاحب نے پیزا میکس کی طارق روڈ برانچ کو 45 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا اور ایک مہینہ کا وقت دیا تاکہ وہ کچن میں موجود تمام خرابیاں دور کرسکیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top