تازہ ترین
آئین نہیں ، اعمال کو بدلیں

آئین نہیں ، اعمال کو بدلیں

دوہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد عمران خان نے منظم دھاندلی کا الزام لگا کر احتجاجی تحریک شروع کی اور پھر بدعنوانی سے پاک اور انصاف پر مبنی نیا پاکستان بنانے کے لئے جدوجہد کا اعلان کیا ۔ ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی سماجی ، معاشی و معاشرتی سطح پر تبدیلی کے لئے انقلاب کا اعلان کیا ۔ تاہم نوازشریف ان دونوں تحریکوں کے دوران دعوٰی کرتے رہے کہ ان کی جماعت ملک میں معاشی و معاشرتی انقلاب برپا کرکے نیا پاکستان قائم کر چکی ہے ۔ اس لئے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریکیں یا تقریریں محض جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی سازش ہیں ۔ اب جبکہ ایک سال تک عدالتی سماعت اور جے آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوازشریف کو غلط بیانی پر نااہل قرار دے کر منی لانڈرنگ اور جعلی دستاویزات کے مقدمات چلانے کا فیصلہ سنایا ہے تو نوازشریف بھی عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرح نہ صرف کنٹینر اور روڈ مارچ کی سیاست پر مجبور ہوگئے بلکہ نیا پاکستان اور انقلاب کی باتیں کرنے لگے ہیں ۔ چند دن پہلے تک جو نظام اور آئین نوازشریف کے لئے مقدس ترین اور متفقہ دستاویز تھا ، اب وہی آئین اور نظام انہیں فرسودہ دکھائی دینے لگا ہے اور انھوں نے ملک و آئین کو بدلنے کا اعلان کردیا ہے ۔

ملکی آئینی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو کچھ اچھی روایات دکھائی نہیں دیتیں ۔ قیام پاکستان کے 9 سال بعد پہلا آئین بنا مگر دو سال بعد ہی فوجی آمریت کی نذر ہوگیا ۔ ایوب خان نے اقتدار کے چار سال بعد 1962 میں صدارتی طرز حکومت پر مبنی ملک کا دوسرا آئین متعارف کرایا جو سات برس بعد پہلے معطل ہوا اور پھر تین برس بعد 1972 میں منسوخ کردیا گیا ۔ 1973 میں پہلی بار منتخب عوامی اسمبلی نے پارلیمانی جمہوری طرز حکومت پر مبنی آئین پاس کیا ، جو آج تک 22 ترامیم کے باوجود رائج ہے ۔

آئین کے پہلے چار برسوں میں ہی سات ترامیم کی گئیں ،جن میں سے چار ترامیم حاکم وقت کی ذاتی پسند و نا پسند کی بدولت اعلی عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں تبدیلی ، عدالتوں پر پابندی اور حفاظتی تحویل میں گرفتار کئے گئے افراد کی مدت گرفتاری اور ضمانتوں سے انکار سے متعلق تھیں ۔ 1977 میں ایک بار پھر فوجی آمریت مسلط کی گئی اور آئین کو التوا میں ڈال دیا گیا ، جو 8 برس بعد بدنام زمانہ 8ویں ترمیم کے ساتھ بحال ہوا۔ اس ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار دیا گیا اور اگلی پانچ حکومتیں اسی 8ویں ترمیم کی بھینٹ چڑھیں ۔ 1999 کی فوجی بغاوت اور 2002 کے انتخابات کے بعد 2004 میں پارلیمنٹ نے 17ویں ترمیم کے ذریعے ایک بار پھر فوجی آمر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی اور اختیارات کا جھکاؤ بھی صدر مملکت کی طرف کردیا ، کیونکہ اس وقت کا صدر حاضر سروس جنرل بھی تھا ۔ تاہم تمام پارلیمانی جماعتوں کی مشترکہ کوششوں کے بعد اپریل 2010 میں تاریخی 18ویں ترمیم منظور کی گئی ۔ جس کے تحت نہ صرف صدارتی اختیارات کو ختم کرکے وزیراعظم کو زیادہ خودمختار بنایا گیا بلکہ صوبوں کو بھی اختیارات کی منتقلی کی گئی ۔

 

ملکی تاریخ میں یہ واحد موقع تھا جب 1973 کی آئین سازی کے بعد اس قدر اتفاق رائے پایا گیا ۔ تمام پارلیمانی جماعتوں بشمول پاکستان مسلم لیگ نون نے آئین سازی کے اس تاریخی پس منظر کے پیش نظر 18ویں ترمیم کو تاریخ ساز کامیابی اور جمہوریت و وفاق کے لئے نیک شگون قرار دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی پوری تحریک کے دوران مسلم لیگ نون اور نوازشریف نے اسی آئین کی بالادستی اور تقدس کو قائم رکھنے کی بات کی ۔

اب جبکہ نوازشریف ، جو اسی آئین اور پارلیمانی نظام پر ایمان کی حد پر یقین رکھتے تھے ، نے آئین اور نظام دونوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تو اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ سے نوازشریف کا ایمان کیوں متزلزل ہوگیا ۔ جبکہ ملک کی باقی تمام جماعتیں آئین اور پارلیمانی نظام پر مکمل اعتماد کا اظہار کررہی ہیں اور عدالتی فیصلہ کو بھی، ماسوائے نون لیگ کے ایک مخصوص حلقے کے، عمومی طور پر سراہا جا رہا ہے ۔

تاریخی اعتبار پر دیکھا جائے تو ہر جمہوری و غیر جمہوری حکمران نے قومی و عوامی ضروریات کی بجائے ذاتی ضروریات کے پیش نظر آئین میں ترامیم کیں ۔ کبھی جمہوری تو کبھی صدارتی طرز حکومت اور پھر پارلیمانی و وفاقی نظام مملکت متعارف کرایا گیا ۔ کسی بھی ریاست کا بنیادی مقصد عوام کی بلا تفریق فلاح و بہبود ، جان و مال کا تحفظ اور قومی ترقی و خوشحالی ہوتا ہے ۔ آئین اور قوانین کا مقصد بھی ان بنیادی مقاصد کا حصول یقینی بنانا ہوتا ہے ۔ اس لئے ایک متفقہ تاریخ ساز آئین کو محض اپنے خلاف ایک فیصلہ کی وجہ سے فرسودہ قرار دے کر بدلنے پر اصرار یا مطالبہ کرنےکی بجائے قومی قیادت ، قومی اداروں اور قوم کو بھی اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔ اس ملک میں تین آئین بن چکے ہیں ۔ تیسرے آئین میں 22 ترامیم بھی ہوچکی ہیں ۔ آئین میں 22 ترامیم مزید کرلیں یا پورا کا پورا آئین ہی بدل ڈالیں ، اس وقت تک کوئی فرق نہیں پڑے گا جب تک ہمارے ذاتی انفرادی و قومی رویے تبدیل نہیں ہوں گے ۔

پارلیمنٹ اسی وقت آزاد خودمختار اور بالادست ہوگی جب پارلیمانی اداروں اور پارلیمانی کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے گا ۔ جب قائد ایوان خود اپنی کابینہ کے ہمراہ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوں گے اور پارلیمنٹ میں باقاعدہ حاضر ہوکر اس کی وقعت بڑھائیں گے تو ہی یہ عوامی نمائندگی کا ادارہ مضبوط ہوگا ۔ عوام اس عوامی ادارے کے تحفظ کے لئے اسی وقت سڑکوں پر لڑنے اور مرنے کے لئے تیار ہوں گے جب چوبیس گھنٹے اور بارہ مہینے ان ایوانوں میں عوام کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے بحث و مباحثہ اور قانون سازی ہوگی ۔ عوام کے مینڈیٹ کا احترام بھی تبھی ہوگا جب عوامی نمائندے بیرون ممالک اثاثے بنانے ، اپنے اور اپنے بچوں کی غیر ملکی شہریت کے لئے تگ و دو کی بجائے بیرون ممالک سے سرمایہ کاری لانے اور اپنی اولادوں کو اندرون ملک بسائیں گے ۔ اور اپنی اپنی پار اور اپنی اپنی پارٹی منشور پر عمل کریں گے ۔

آئین و قانون کی بالادستی کے لئے اہم ترین ریاستی ستون عدلیہ کو بھی بلا امتیاز انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا ۔ ملک کے چیف ایگزیکٹو کا احتساب حوصلہ افزا اقدام ہے ، اس سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد قائم ہوا ہے ۔ اب عدلیہ پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس اعتماد کو قومی یقین میں بدلنے کے لئے احتساب کے بلاتفریق عمل کو آگے بڑھائے ۔ با اثر سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ آئین شکن آمر کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرے ۔ قومی قیادت کو بھی چاہیے کہ مخصوص احتساب کے تاثر کے خاتمہ کے لئے محض آرٹیکل چھ ون کی بجائے آرٹیکل چھ ٹو اے اور بی کو بھی لاگو کرے ۔ اصغر خان کیس میں دیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر بھی عمل کرتے ہوئے ان جرنیلوں اور سیاستدانوں کے خلاف مقدمہ قائم کرے جنہوں نے سیاسی مقاصد کے لئے قومی خزانے سے رقم تقسیم اور استعمال کی ۔ ان کے خلاف بھی مقدمات قائم کرے جنہوں نے جمہوری حکومتیں گرانے کے لئے القاعدہ یا دیگر کالعدم تنظیموں سے رقوم حاصل کیں ۔

ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو بھی عملی طور پر یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ جمہوری اداروں کے استحکام اور جمہوری نظام کے تسلسل کے لئے مخلص ہے ۔ مسلح افواج اور خفیہ اداروں کی ملکی سالمیت ، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف کردار اور قربانیوں کو ہر محب وطن پاکستانی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ ان اداروں کی قومی خدمات پر قوم جان نچھاور کرنے کو تیار ہے ، ان اداروں کو بھی ان شکوک و شبہات کو زائل کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے جو شکوک و شبہات اندرونی و بیرونی سطح پر قصداً یا سہواً پیدا کئے جا رہے ہیں ۔

ہم سب کو بھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا ۔ ہم ہمیشہ حقوق کی بات کرتے ہیں ۔ مگر ہمارے کچھ قومی فرائض بھی ہیں ۔ جنہیں ہم نے بھلا دیا ہے ۔ ہم انفرادی و ذاتی سطح پر حقوق کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ بنیادی فرائض کی مخلصانہ ادائیگی بھی شروع کردیں تو یقین جانئے ، ہمارے نصف سے زائد مسائل خود ہی ختم ہوجائیں ۔ ہم ذاتی مفادات کے پیچھے بھاگنے اور دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے قانون و آئین کی عملداری اپنی اپنی ذات سے شروع کردیں تو قانون و آئین کی بالادستی کے لئے کسی قوت یا ادارہ کی ضرورت ہوگی نہ ہی آئین بدلنا پڑے گا ۔

اب تک ڈاٹ ٹی وی کا بلاگر کے متن سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top